سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا
سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا اس سے بہتر غم دوراں ترا حل کیا ہوگا تم مجھے شہر بدر کر تو رہے ہو لیکن یہ بھی سوچا ہے کہ انجام غزل کیا ہوگا میں تو کر لوں بہ خوشی تجھ کو گوارہ لیکن غم تنہائی ترا درد عمل کیا ہوگا جس کی خوشبو سے مہکتے ہیں در و بام حیات کچھ سہی موسم گل اس کا بدل کیا ...