قومی زبان

سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا

سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا اس سے بہتر غم دوراں ترا حل کیا ہوگا تم مجھے شہر بدر کر تو رہے ہو لیکن یہ بھی سوچا ہے کہ انجام غزل کیا ہوگا میں تو کر لوں بہ خوشی تجھ کو گوارہ لیکن غم تنہائی ترا درد عمل کیا ہوگا جس کی خوشبو سے مہکتے ہیں در و بام حیات کچھ سہی موسم گل اس کا بدل کیا ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں جس وقت ہم نکلتے ہیں

تری تلاش میں جس وقت ہم نکلتے ہیں قدم بھی چلتے ہیں نقش قدم بھی چلتے ہیں جو تند و تیز ہواؤں کا رخ بدلتے ہیں جہاں میں صرف انہیں کے چراغ جلتے ہیں اسی لئے مرے ارماں نہیں نکلتے ہیں کہ تیز دھوپ میں چلنے سے پاؤں جلتے ہیں سوئے حرم ہی مڑیں ہم یہ کیا ضروری ہے تری گلی سے کئی راستے نکلتے ...

مزید پڑھیے

تمہاری زلف کے سائے میں رات ٹھہری ہے

تمہاری زلف کے سائے میں رات ٹھہری ہے کہ رنگ و نور لئے کائنات ٹھہری ہے نہ اب جنوں کی تمنا نہ ہے خرد کی طلب یہ کس مقام پہ آ کر حیات ٹھہری ہے نہ پوچھ کیسے گزاری ہے زندگی ہم نے قدم قدم پہ المناک رات ٹھہری ہے جہاں میں جب بھی نظر کو کہیں سکوں نہ ملا امید گاہ نظر تیری ذات ٹھہری ہے بندھے ...

مزید پڑھیے

مثال موج نسیم بہار گزری ہے

مثال موج نسیم بہار گزری ہے وہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے وہ اک نگاہ جو پیغام صد نشاط بھی ہے نہ جانے کیوں وہ مرے دل پہ بار گزری ہے وہ تشنگی جو سر میکدہ نکھرنا تھی وہ تشنگی بھی یوں ہی بے بہار گزری ہے ابھی ابھی تو نہ آ اے خیال آمد یار ابھی ابھی تو شب انتظار گزری ہے ہمیں تو ان کی ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے

دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے نئی زمین نکالی نئی غزل کے لئے نفاستوں میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ہم گلوں کے بوسے بھی ہم نے سنبھل سنبھل کے لئے سفر میں رہتے ہیں ہر وقت خوشبوؤں کی طرح سکوں ملا نہ کہیں ہم کو ایک پل کے لئے یہ راہ عشق و وفا ہے یہاں کا مسلک ہے قدم قدم رہو تیار تم اجل کے ...

مزید پڑھیے

تم جس کو ڈھونڈتے ہو یہ محفل نہیں ہے وہ

تم جس کو ڈھونڈتے ہو یہ محفل نہیں ہے وہ لوگوں کے اس ہجوم میں شامل نہیں ہے وہ رستوں کے پیچ و خم نے کہیں اور لا دیا جانا ہمیں جہاں تھا یہ منزل نہیں ہے وہ دریا کے رخ کو موڑ کے آئے تو یہ کھلا ساحل کے رنگ اور ہیں ساحل نہیں ہے وہ دنیا میں بھاگ دوڑ کا حاصل یہی تو ہے حاصل ہر ایک چیز ہے حاصل ...

مزید پڑھیے

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد اک ستارہ نے یہ پوچھا رات ڈھل جانے کے بعد میں زمیں پر ہوں تو پھر کیوں دیکھتا ہوں آسماں یہ خیال آیا مجھے اکثر پھسل جانے کے بعد دوستوں کے ساتھ چلنے میں بھی خطرے ہیں ہزار بھول جاتا ہوں ہمیشہ میں سنبھل جانے کے بعد اب ذرا سا فاصلا رکھ کر جلاتا ...

مزید پڑھیے

یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو

یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو عجیب رنگ جہاں ہے ذرا سنبھل کے چلو سلگتے خوابوں کی بستی ہے رہ گزار حیات یہاں دھواں ہی دھواں ہے ذرا سنبھل کے چلو روش روش ہے گزر گاہ نکہت برباد کلی کلی نگراں ہے ذرا سنبھل کے چلو جو زخم دے کے گئی ہے ابھی نسیم سحر سکوت گل سے عیاں ہے ذرا سنبھل کے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے

آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے عالم کیا کیا دکھا رہا ہے عالم اک انتظار کا ہے کھلتا نہیں انتظار کیا ہے قطرہ قطرہ جو پی چکا ہے دریا دریا پکارتا ہے کیا کہہ گئی زندگی کی آہٹ جو ہے کسی سوچ میں کھڑا ہے اے موج نسیم صبح گاہی ہر غنچہ کا دل دھڑک رہا ہے تم اور ذرا قریب آ جاؤ خنجر رگ جاں تک ...

مزید پڑھیے

تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے

تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے ترا وجود مری ذات کا اجالا ہے حریف پرتو مہتاب ہے جمال ترا کچھ اور لگتا ہے دل کش جو دور ہوتا ہے مرے یقین کی معصومیت کو مت ٹوکو مری نگاہ میں ہر نقش اک تماشا ہے نظر تو آئے کوئی راہ زندگانی کی تمام عالم امکاں غبار صحرا ہے نہ آرزو سے کھلا ہے نہ جستجو سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5406 سے 6203