دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں
دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں
جن کو ہنسنا نہیں آتا ہے وہ رو لیتے ہیں
ہر خوشی غم کے اندھیروں میں سمو لیتے ہیں
دفعتاً ہم جو تری یاد میں رو لیتے ہیں
ہم وہ وحشی ہیں کہ جب نیند ہمیں آتی ہے
طوق و زنجیر کے پہلو میں بھی سو لیتے ہیں
اب یہ عالم ہے کہ جب یاد تری آتی ہے
اک ذرا دیر کو مغموم سے ہو لیتے ہیں
تم بھی گزرے ہوئے حالات کا ماتم کر لو
ہم بھی اپنے دل مرحوم کو رو لیتے ہیں