قومی زبان

سڑک پہ دوڑتے مہتاب دیکھ لیتا ہوں

سڑک پہ دوڑتے مہتاب دیکھ لیتا ہوں میں چلتا پھرتا ہوا خواب دیکھ لیتا ہوں مری نظر سے پرے سیکڑوں جہاں ہوں گے میں اک جہان تہہ آب دیکھ لیتا ہوں میں ٹوٹے بکھرے ہوئے دوستوں کی بستی میں نئے نظام کے آداب دیکھ لیتا ہوں عجیب دھند ہے میں اپنی ہار میں عالمؔ شکست گنبد و محراب دیکھ لیتا ہوں

مزید پڑھیے

ہر گھڑی اک یہی احساس زیاں رہتا ہے

ہر گھڑی اک یہی احساس زیاں رہتا ہے آگ روشن تھی جہاں صرف دھواں رہتا ہے ختم ہوتا ہی نہیں دشت کا اب سناٹا کوئی موسم ہو یہاں ایک سماں رہتا ہے آ گئی راس مرے دل کی اداسی شاید اتنی مدت بھی کہیں دور خزاں رہتا ہے پھول کھلتے ہیں تو مرجھائے ہوئے لگتے ہیں اک عجب خوف سر شاخ گماں رہتا ہے ساز ...

مزید پڑھیے

ایک رات لگتی ہے اک سحر بنانے میں

ایک رات لگتی ہے اک سحر بنانے میں ہم نے کیوں نہیں سوچا ہم سفر بنانے میں منزلیں بدلتے ہو پر تمہیں نہیں معلوم عمریں بیت جاتی ہیں رہ گزر بنانے میں عمر بھر رہا ہم پر اس کا ہی اثر حاوی بے اثر رہے جس پر ہم اثر بنانے میں موج میں بناتا ہوں جسم جس پرندے کا روح کانپ اٹھتی ہے اس کے پر بنانے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایک روز میں میں چاہتیں بدلتا ہوں

کچھ ایک روز میں میں چاہتیں بدلتا ہوں اگر نہ سیٹ ملے تو بسیں بدلتا ہوں ہر ایک روز وہ پہچان کیسے لیتی ہے ہر ایک روز تو میں آہٹیں بدلتا ہوں ہمیشہ تم کو شکایت رہی جماؤں نہ حق تو سن لو آج میں اپنی حدیں بدلتا ہوں کراہتی ہیں یہ بستر کی سلوٹیں میری تمام رات میں یوں کروٹیں بدلتا ...

مزید پڑھیے

صرف کروٹ نہیں حدوں کے بیچ

صرف کروٹ نہیں حدوں کے بیچ اک زمانہ ہے کروٹوں کے بیچ آنکھ پلکوں کے بیچ ایسی ہے جیسے دریا ہو ساحلوں کے بیچ زندگی ریل سی گزرتی ہے سانس کی دونوں پٹریوں کے بیچ یہ کوئی مسئلہ نہ بن جائے ایک آنسو ہے قہقہوں کے بیچ مسئلہ لڑکیاں ہی ہوتی ہیں عادتاً سارے دوستوں کے بیچ منہ بنا کر کھڑی ...

مزید پڑھیے

ایک صدی میں بیتا ہوں

ایک صدی میں بیتا ہوں میں بھی کیسا لمحہ ہوں بک جاتا ہوں ہاتھوں ہاتھ حد سے زیادہ سستا ہوں بند پڑا ہوں مدت سے کہنے کو دروازہ ہوں میری شکل پہ مت جانا اندر اندر ٹوٹا ہوں مت سمجھا کر مجھ کو تو یار بہت میں الجھا ہوں سب کی نظریں مجھ پر ہیں کیا لڑکی کا دوپٹہ ہوں

مزید پڑھیے

نظم

یہ حقیقت ہے تمہیں یاد نہیں میں لیکن یہ حقیقت تو نہیں پیار نہیں تھا مجھ سے اب چلو مان لیا یہ بھی حقیقت ہی ہے کیا حقیقت سے میں انجان رہا اتنے دن کیسے انجان رہا کیسے خبر ہو نہ سکی بے خبر خود سے تھا یا تم نے گماں میں رکھا بے خبر تھا میں اگر خود سے تو آخر کیوں تھا گر گماں میں رکھا تم نے تو ...

مزید پڑھیے

ایک شخص

ایک دھندھلی سی تصویر کو اپنے سینے سے کس کر لگائے ہوئے شہر کی سب سے اونچی عمارت پہ ہو کر کھڑا لہجہ خاموش کرتے ہوئے دھندھلی تصویر کے کان میں صرف اتنا کہا تم بہت ہی حسیں ہو جواں ہو مگر تم سے بھی اس جہاں میں حسیں موت ہے

مزید پڑھیے

ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے

ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے یہ پرندے بھی ترے ہجر میں اکثر جاگے کہیں جگنو کہیں تارے کہیں منظر جاگے پھر ستانے کے لئے مجھ کو ستم گر جاگے اپنی آنکھوں میں بسا کر غم ہجراں کی کسک کاش تو بھی کبھی میرے لئے شب بھر جاگے آگ اور خون کے دریا کو روانی دینے خوگر ظلم جفا کاروں کے لشکر ...

مزید پڑھیے

ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی

ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی دن تو کٹ جائے گا پر رات کہاں گزرے گی کوئی دیوار نہ در رات کہاں گزرے گی یوں سر راہ گزر رات کہاں گزرے گی کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم نہ کوئی ہم سایہ اور پھر لمبا سفر رات کہاں گزرے گی اجنبی شہر میں رہ رہ کے خیال آتا ہے میری منظور نظر رات کہاں گزرے گی دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5404 سے 6203