تیرگی ہو کہ ہو تنویر لہو مانگے گی

تیرگی ہو کہ ہو تنویر لہو مانگے گی
ہر نئے دور کی تعمیر لہو مانگے گی


اس سے اچھا ہے کہ خوابوں کا بھروسہ نہ کرو
خواب دیکھو گے تو تعبیر لہو مانگے گی


دشت وحشت میں تو اس وقت مزا آئے گا
جب مرے پاؤں کی زنجیر لہو مانگے گی


تم مرے سامنے اب جنگ کی باتیں نہ کرو
نیام سے نکلی تو شمشیر لہو مانگے گی


میں یہ ہی سوچتا رہتا ہوں شب و روز اخترؔ
کب تلک وادئ کشمیر لہو مانگے گی