پھول جلتے ہیں کہیں برگ و ثمر جلتے ہیں

پھول جلتے ہیں کہیں برگ و ثمر جلتے ہیں
فصل گل آئی ہے باغوں میں شجر جلتے ہیں


اللہ اللہ جبین رخ جاناں کی تپش
ایسا لگتا ہے کہ اب شمس و قمر جلتے ہیں


کیا غضب ہے کہ ترے شہر میں اے جان غزل
جسم و جاں ذہن‌ و نظر قلب و جگر جلتے ہیں


جس طرف دیکھیے اک آگ کا دریا ہے رواں
راستے خون میں ڈوبے ہیں نگر جلتے ہیں


بجھ چکا ہوں میں مگر اب بھی مرے نقش قدم
دیکھ لو جا کے سر راہ گزر جلتے ہیں


جن کے سینوں میں فروزاں ہے وفا کی شمعیں
روز و شب جلتے ہیں وہ شام و سحر جلتے ہیں


آپ جس شہر کو پر امن سمجھتے ہیں حضور
واقعہ یہ ہے اسی شہر میں گھر جلتے ہیں


دفعتاً نیند سے میں چونک اٹھا اے اخترؔ
میں نے جب خواب میں دیکھا کہ ہنر جلتے ہیں