چھو لیا شعلۂ رخسار صنم دیکھو تو
چھو لیا شعلۂ رخسار صنم دیکھو تو
کتنے ناعاقبت اندیش ہیں ہم دیکھو تو
کوئی شکوہ ہے نہ فریاد نہ غم دیکھو تو
جانے اب کون سی منزل پہ ہیں ہم دیکھو تو
رنج و آلام کی جلتی ہوئی دوپہروں میں
تم بھی چل کر کبھی دو چار قدم دیکھو تو
ڈوبی ڈوبی سی نظر آتی ہے کیوں نبض حیات
آج کیا بات ہے کیوں درد ہے کم دیکھو تو
دیدہ و دل میں لئے پھرتے ہیں ہم آگ ہی آگ
تم کو انداز تغافل کی قسم دیکھو تو
کیا کسی رند کا دل توڑ دیا زاہد نے
کیوں لرزنے لگی دیوار حرم دیکھو تو
ہم سے تعمیر زمانہ ہے ہمیں پر یارو
توڑے جاتے ہیں زمانے کے ستم دیکھو تو
ان کو احساس ہے اکثر میری بربادی کا
کس بلندی پہ ہے اب قسمت غم دیکھو تو