غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں
غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں
غم کے مارے ہوئے ہر بات پہ رو دیتے ہیں
ہم کو رونا ہے تو بس آج کا ہی رونا ہے
لوگ گزرے ہوئے حالات پہ رو دیتے ہیں
یاد آتا ہے کسی بات پہ روئے تھے کبھی
اب یہ عالم ہے کہ ہر بات پہ رو دیتے ہیں
ہم تو خود موڑ دیا کرتے ہیں حالات کا رخ
ہم نہیں وہ کہ جو حالات پہ رو دیتے ہیں
یہ ادا دیکھی ہے ہم نے ترے دیوانوں کی
جس پہ ہنستے ہیں اسی بات پہ رو دیتے ہیں
آخری بار کوئی ہم سے ملا تھا آ کر
یاد آتی ہے تو اس رات پہ رو دیتے ہیں
کل جو رخ پھیر لیا کرتے تھے مجھ سے اخترؔ
آج وہ بھی مرے حالات پہ رو دیتے ہیں