رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے

رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے
دیکھنا یہ ہے زمانہ مجھے کیا دیتا ہے


لوگ یہ پوچھ رہے ہیں ترے دیوانے سے
کس کا دیوانہ ہے تو کس کو صدا دیتا ہے


اس کی عظمت کو تو اے دوست خدا ہی جانے
کوسنے والوں کو جو شخص دعا دیتا ہے


جانے کس سوچ میں ڈوبا ہے مسیحا میرا
زہر دیتا ہے مجھے اور نہ دوا دیتا ہے


آج یہ دیکھنے نکلا ہوں بصد شوق و خلوص
کون دنیا میں وفاؤں کا صلہ دیتا ہے


تجھ کو بھولے ہوئے اک عمر ہوئی ہے لیکن
دل کا ہر زخم تجھے اب بھی دعا دیتا ہے


اب میں اس شہر میں رہتا ہوں جہاں اے اخترؔ
اک بناتا ہے مکاں دوسرا ڈھا دیتا ہے