جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے
جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے
تب کہیں جا کے دعاؤں میں اثر آتا ہے
دل مرا جب بھی شب تار سے گھبراتا ہے
شمع سی آ کے کوئی دل میں جلا جاتا ہے
سوچتا ہوں کہ ترا درد نہ کھو جائے کہیں
اب تو ہر غم مری تنہائی سے ٹکراتا ہے
تم نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
کون ہے پھر جو غریبوں پہ ستم ڈھاتا ہے
دھوپ ہی ٹھیک ہے اس چھاؤں سے جو گم کر دے
کم سے کم دھوپ میں سایہ تو نظر آتا ہے
رات کے بعد ہی آتی ہے سحر اے یارو
غم جسے ملتے ہیں راحت بھی وہی پاتا ہے
لوگ کہتے ہیں کبھی پی کے تو دیکھو اخترؔ
گرمیٔ مے سے ہر اک درد پگھل جاتا ہے