آنسوؤں سے لکھی تحریر بھی ہو سکتی ہے
آنسوؤں سے لکھی تحریر بھی ہو سکتی ہے غم کی رخسار پہ تفسیر بھی ہو سکتی ہے تیری دنیا میں مرا کام ابھی باقی ہے لوٹنے میں ذرا تاخیر بھی ہو سکتی ہے دم رخصت ترے ہونٹوں کی یہ پھیکی مسکان میرے ان پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے دل سے کھیلو نہ مرے اس کے کسی گوشے میں آپ کی ہی کوئی تصویر بھی ہو ...