قومی زبان

میں کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہوں

میں کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہوں محبت کرکے تنہا ہو گیا ہوں مسلسل چشم تر رہتی ہے میری میں یادوں کا خزانہ ہو گیا ہوں میری ان چشم میں دیکھو ذرا سا تری منزل کا رستہ ہو گیا ہوں مجھے تو سننے دے جھوٹی تسلی بہا کے آنسو دریا ہو گیا ہوں یہ دریا میٹھے پانی کا نہیں ہے میں درد و غم سے کھارا ...

مزید پڑھیے

ملک کو آخر مرے اب یہ ہوا کیا ہے خدا

ملک کو آخر مرے اب یہ ہوا کیا ہے خدا ہو رہے دنگے فسادوں کی دوا کیا ہے خدا رہنما ہی ملک کے دشمن بنے بیٹھے ہوں پھر ملک میں بہتے ہوئے خوں کی سزا کیا ہے خدا مذہبی مطلب نے ڈھیروں نام میں بانٹا تجھے تو تو قاضی ہے بتا اس کی سزا کیا ہے خدا کہتے ہیں سب ساری دنیا کو بنایا تم نے تو گاڈ اللہ ...

مزید پڑھیے

ہو سکتا ہے کوئی ہمیں بھی ڈھونڈے ان بنجاروں میں

ہو سکتا ہے کوئی ہمیں بھی ڈھونڈے ان بنجاروں میں جانے کس کی کھوج میں کب سے پھرتے ہیں بازاروں میں عمر گنوائی کھوج میں جس کی ڈھونڈ پھرے گلزاروں میں قسمت کی یہ خوبی دیکھو آن ملا ویرانوں میں کوئی نہیں جو تیرے آگے حسن کا پیکر بن کر آئے شردھا کی کلیاں مسکائیں قدرت کی سوغاتوں میں آپ کی ...

مزید پڑھیے

شعر و سخن کی اس محفل میں سب سے چھوٹے ہم ہی تھے

شعر و سخن کی اس محفل میں سب سے چھوٹے ہم ہی تھے سب سے اونچے منصب والے کھوٹے سکے ہم ہی تھے یاد ہمیں ہے تم بھی سوچو وقت پڑا جب اردو پر سب تھے الجھی بھاشا والے اردو والے ہم ہی تھے دولت شہرت حکمت والے سب ہیں تیرے دم کے ساتھ دنیا تیری ساری رونق چھوڑ کے بیٹھے ہم ہی تھے ٹوٹ چکے سب رشتے ...

مزید پڑھیے

کیا سنائیں تمہیں کوئی تازہ غزل

کیا سنائیں تمہیں کوئی تازہ غزل شعر حیرت زدہ آب دیدہ غزل تم کو لوگو ابھی بھانگڑہ چاہیئے درد کی زندگی کا ترانہ غزل وقت برباد کرتے رہے اس طرح ہم سناتے رہے سب کو تازہ غزل ترجمان شکستہ دلی تھی مگر محفلوں میں چلی وہ شکستہ غزل آدمی کو کبھی بھول سکتی نہیں زندگی سے نبھاتی ہے رشتہ ...

مزید پڑھیے

اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے

اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے جس رستے پر برسوں بھٹکے ہم وہ رستا بھول گئے تیز ہوا کے ظالم جھونکے لمحہ لمحہ ساتھ رہے لمحہ لمحہ اک مدت تک درد جو اٹھا بھول گئے صحرا صحرا چلتے چلتے کچھ ایسے مانوس ہوئے اپنے اپنے شہر کا راہی گوشہ گوشہ بھول گئے پگڈنڈی جو رنج و الم کو جاتی ...

مزید پڑھیے

میرا سنسار

چلو نہ آج تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں کہانی کے ساتھ کچھ اور بھی بتاتی ہوں پیار کرنے سے زیادہ اسے نبھانا سکھاتی ہوں ساتھ ہی اپنی زندگی بتاتی ہوں ماں پاپا بہت خوش تھے میرے آنے پر نہ جانے کیوں پھر دادہ دادی کا چہرہ نہیں کھلا تھا جب میرے حق میں پاپا نے انہیں سمجھایا تبھی تو مجھے میرا ...

مزید پڑھیے

میں ہوں کیا ویشیا

جانتے ہو میں ہوں کیا میں ہوں ویشیا پتا ہے میں نے ہے کیا کیا کیا میں ناچتی ہوں کوٹھوں پر خوش ہوتی ہوں بس نوٹوں پر ہر رات ہر رات میں اپنا جسم بیچتی ہوں اتنا درد میں بس پیسوں کے لئے تو سہتی ہوں میں لوگوں کی راتیں رنگین کرتی ہوں ہر رات یہ اپرادھ سنگین کرتی ہوں میرا نام عام میں لینے ...

مزید پڑھیے

میرا راج کمار

بہت خوش تھی میں آج نہ ہوتی میں کاش کسی کی ضرور نظر لگی ہوگی کسی کو تو میں خوش بری لگی ہوں گی کسی نے تو میرے آنسو مانگے ہوں گے کچھ تو مجھ سے وہ چاہتے ہوں گے کہ نظر سے اندھی لڑکی کو خوشیاں نظر نہ آئیں کہ پھر سے کوئی طوفان اس پر غموں کا پہاڑ لائے اور دیکھو تو یہ نظر بھی کیا خوب کھیلی مجھ ...

مزید پڑھیے

چھوٹو

چائے کھانا برتن بھانڈے صاف کرنا جو ہیں گندے بس یہی میرا کام ہے اور جانتے ہو چھوٹو میرا نام ہے گھر کا اکیلا لڑکا ہوں باقی سب لڑکی ہیں چار بچوں سنگ بن ماں کے اس گھر میں کڑکی ہے ماں کے پیٹ میں ہی میرا سودا کیا تھا بابا نے میرے دم پر قرض چکتا کیا تھا بنایا مجھ کو بندھوا مزدور کام کرنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5113 سے 6203