قومی زبان

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہا دست فنکار کو کاسہ نہیں لکھا میں ...

مزید پڑھیے

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے متاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤ کہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستہ دیں گے جلائے ہیں دیئے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی ...

مزید پڑھیے

عشق دل میں اگر نہیں ہوتا

عشق دل میں اگر نہیں ہوتا تیری چوکھٹ پہ سر نہیں ہوتا تیرا ہونا حیات میں میری ہو بھی سکتا ہے پر نہیں ہوتا تیری یادوں کے ساتھ چلتا ہوں یہ سفر کیا سفر نہیں ہوتا ریت کا گھر بنا تو لیں لیکن ریت ہوتی ہے گھر نہیں ہوتا ہم زباں ہے وہ ہم خیال بھی ہے جانے کیوں ہم سفر نہیں ہوتا ایک مدت ...

مزید پڑھیے

تری یادوں سے گر اوبر جائیں

تری یادوں سے گر اوبر جائیں عین ممکن ہے پھر کہ مر جائیں یا خدا راستا نہ منزل ہے کچھ تو بتلا دے ہم کدھر جائیں توڑ کر بندشیں رواجوں کی اب چلو حد سے ہم گزر جائیں رات آوارگی کی سڑکوں پر ہو گئی صبح اب تو گھر جائیں عشق والو دو مشورہ مجھ کو غم کے مارے ہوئے کدھر جائیں جسم پھر بیچ میں نہ ...

مزید پڑھیے

مانا کہ زندگی میں کچھ اچھا نہیں کیا

مانا کہ زندگی میں کچھ اچھا نہیں کیا لیکن ضمیر کا کبھی سودا نہیں کیا رسوا ہوئے ہیں خود اسے رسوا نہیں کیا چپ چاپ کھائے زخم تماشہ نہیں کیا سجدے میں جب جھکایا تو دل سے جھکایا سر ہم نے وفا کی راہ میں دھوکا نہیں کیا شاید تراش کر مجھے مورت بنائے وہ پتھر سے خود کو اس لئے شیشہ نہیں ...

مزید پڑھیے

ہمارے ہاتھ میں بچوں نے تتلیاں رکھ دیں

ہمارے ہاتھ میں بچوں نے تتلیاں رکھ دیں تو اپنے ہاتھ کی ہم نے بھی برچھیاں رکھ دیں ہوا تھا ذکر اچانک ہی موت کا مجھ سے تڑپ کے اس نے میرے لب پہ انگلیاں رکھ دیں رہا کیا ہے پرندے کو اس طریقے سے پروں کو کھول کے پیروں میں بیڑیاں رکھ دیں تم اس غریب کی جھولی میں رزق بھی رکھنا کہ جس غریب کی ...

مزید پڑھیے

اب دل کو تم سے کوئی بھی شکوہ نہیں رہا

اب دل کو تم سے کوئی بھی شکوہ نہیں رہا یعنی ہمارے بیچ کا رشتہ نہیں رہا بچپن گزارتے ہیں مشقت کے ساتھ وہ جن کے سروں پہ باپ کا سایا نہیں رہا جب تک نہ ان کی دید ہو کیسے غزل کہوں میرے خیال میں کوئی مصرع نہیں رہا صیاد تیرے ظلم کی اب انتہا ہوئی خالی قفس بچا ہے پرندہ نہیں رہا آواز دے رہا ...

مزید پڑھیے

گردش وقت نے مارا مجھ کو

گردش وقت نے مارا مجھ کو کون اب دے گا سہارا مجھ کو میری کشتی ہے حوادث کا شکار اب صدا دے نہ کنارہ مجھ کو راہ دشوار روشنی معدوم ہے سفر پھر بھی گوارا مجھ کو میں ہوں افسردہ رات ہے کالی کیوں ہے جینے کا اشارہ مجھ کو راہ دشوار ہے مگر انورؔ ہے رفاقت کا سہارا مجھ کو

مزید پڑھیے

اپنی دنیا کو لٹا کر دیکھو

اپنی دنیا کو لٹا کر دیکھو یوں دل و ذہن پہ چھا کر دیکھو لوٹ آیا ہے صبح کا بھولا تم اسے شمع جلا کر دیکھو دل کی دھڑکن میں صدا ہے کس کی اپنے سینے سے لگا کر دیکھو گہرے پانی میں ملے گا موتی اک ذرا غوطہ لگا کر دیکھو میں کوئی غیر نہیں ہوں تو مجھے کبھی آنکھوں میں بسا کر دیکھو ہے کھڑا ...

مزید پڑھیے

خواب

ایک بچی ہوا کرتی تھی بہت اچھی ہوا کرتی تھی شریر سے زیادہ وہ خواب ہوا کرتی تھی مچلی سی وہ آنکھیں ہمدم بس خواب بنا کرتی تھی ایک بچی ہوا کرتی تھی بہت اچھی ہوا کرتی تھی نہ واسطہ لوگوں سے تھا نہ کھیلنا باتوں سے تھا نہ باتیں دنیا داری کی تھی نہ مطلب کی دنیا ساری تھی نہ قصے لوگوں کی نفرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5111 سے 6203