زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے
زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہا دست فنکار کو کاسہ نہیں لکھا میں ...