قومی زبان

قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو

قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو کسی کے قلب میں نفرت ہو اور نہ رنجش ہو کھلیں گے پھول یقیناً خزاں میں چاہت کے جو شاخ دل پہ صنم آپ کی نوازش ہو دھواں سا اٹھتا ہو جس کے ملول چہرے سے تو پھر ضروری ہے دل بھی شکار آتش ہو ہوئے ہیں غیر ترے اپنے کیوں کبھی سوچا ترے خلاف یہ اپنوں کی ہی نہ سازش ...

مزید پڑھیے

نئے ہر روز ہوتے حادثے اچھے نہیں لگتے

نئے ہر روز ہوتے حادثے اچھے نہیں لگتے بہت حالات بھی سہمے ہوئے اچھے نہیں لگتے محافظ ہے ترا دامن بہت ہی خون میں آلود مگر یہ داغ دامن پر ترے اچھے نہیں لگتے فقط امن و اماں کی بات ہو تو اچھا لگتا ہے دلوں میں خوف دہشت وسوسے اچھے نہیں لگتے قدم پچھلا اٹھائے گا تبھی آگے بڑھے گا تو شکستہ ...

مزید پڑھیے

نیند ہے اور نہ خواب آنکھوں میں

نیند ہے اور نہ خواب آنکھوں میں اترا کیسا عذاب آنکھوں میں دل میں ویرانیاں بسیں جب سے ہیں کھٹکتے گلاب آنکھوں میں میرے اشکوں نے عمر بھر لکھی ایک غم کی کتاب آنکھوں میں خون بھی دیکھنے سے ڈرتی ہیں اب نہیں اور تاب آنکھوں میں سہہ نہ پاؤ گے جھانک کر دیکھو میرا ڈھلتا شباب آنکھوں ...

مزید پڑھیے

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے ہر ایک فرد گلوں میں گلاب جیسا ہے چراغ سب نے جلائے ہیں امن کے لیکن اندھیرا وقت کا اک آفتاب جیسا ہے ملیں نہ ہاتھ فقط دل سے دل بھی مل جائیں یہ دیکھنے کو مجھے اضطراب جیسا ہے عجیب خواب کا ہے انتظار آنکھوں کو یہ انتظار بھی شاید کہ خواب جیسا ہے شمار میں ...

مزید پڑھیے

تری خوشی نہ ملی مجھ کو تیرا غم بھی نہیں

تری خوشی نہ ملی مجھ کو تیرا غم بھی نہیں حیات کیا ہے مری اب قضا سے کم بھی نہیں یہ کس مقام پہ ساقی نے لا کے چھوڑا ہے نہیں ہے ساغر جم تو یہاں پہ سم بھی نہیں ہے میرے ظرف میں جتنا بھرا وہ پیمانہ شراب اس میں ہے جو اس میں کوئی دم بھی نہیں اتار لیتا میں سارے غموں کا اس سے نشہ حریف غم کا ہو ...

مزید پڑھیے

عبارت اس میں ہر اک بے نقاب میری ہے

عبارت اس میں ہر اک بے نقاب میری ہے لکھا ہے نام تمہارا کتاب میری ہے گلاب توڑ کے زینت بنا لو دامن کی نہ کھاؤ خوف یہ شاخ گلاب میری ہے یہ میکدہ یہ حسیں جام گو تمہارے ہیں جو پی رہے ہو مزے سے شراب میری ہے بھٹک نہ جائے کہیں اسپ عشق راہوں سے دعا لبوں پہ ترے ہم رکاب میری ہے وہ ٹوٹ کر نہیں ...

مزید پڑھیے

ساتھ مرے وہ جب تک ٹھہرا

ساتھ مرے وہ جب تک ٹھہرا غم کا سایا تب تک ٹھہرا وقت مصیبت ساتھ ہمارے دوست کوئی بھی کب تک ٹھہرا رسوائی کا خوف تھا شاید نام کسی کا لب تک ٹھہرا سورج میرے ارمانوں کا ایک اندھیری شب تک ٹھہرا جاڑوں کے لمحات جواں ہیں سورج سر پر کب تک ٹھہرا آہوں کا اتنا تو اثرؔ ہے جن کا سایا چھب تک ...

مزید پڑھیے

باب دل جب بھی وا ہوا اپنا

باب دل جب بھی وا ہوا اپنا اس میں نقصان ہی ہوا اپنا کوئی دل والا آ ملے مجھ سے در ہے رکھا کھلا ہوا اپنا نقش پا ثبت ہیں لٹیروں کے گھر سے غائب ہے رہنما اپنا لٹ گیا سب حساب کیا ہوگا غیر کا کیا تھا اور کیا اپنا منزلوں کا نشان کہلائے خون اگلا ہے نقش پا اپنا دل کو تاکا تھا اے اثرؔ میں ...

مزید پڑھیے

میلی چادر ساتھ لیے

میلی چادر ساتھ لیے اپنی انا کی ذات لیے کوچہ کوچہ پھرتا ہوں تن کا لاشہ ساتھ لیے اک درندہ جیت گیا پھرتا ہوں میں مات لیے ڈھونڈیں آؤ انساں کو پاگل پن کو ساتھ لیے ان کا دامن دیکھ چکا آنکھوں میں برسات لیے ٹوٹ چکے وہ تاج محل سوئے تھے ہم رات لیے کس کا بھروسہ آج اثرؔ یار کھڑا ہے گھات ...

مزید پڑھیے

وہ ایک پل جو گزارا ہے پاسداری میں

وہ ایک پل جو گزارا ہے پاسداری میں سکون دیتا رہا مجھ کو بے قراری میں وہ میری روح میں جب تک نہ بس گیا آ کر سنبھل سکا نہ کبھی دل یہ بے قراری میں حنائی دست کی معجز نمائیاں مت پوچھ تمام عمر گزاری ہے شرمساری میں ہوس ہے گوہر نایاب کی اگر تجھ کو تو ڈوب جا کبھی شبنم کی تاب کاری میں سما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5053 سے 6203