قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو
قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو کسی کے قلب میں نفرت ہو اور نہ رنجش ہو کھلیں گے پھول یقیناً خزاں میں چاہت کے جو شاخ دل پہ صنم آپ کی نوازش ہو دھواں سا اٹھتا ہو جس کے ملول چہرے سے تو پھر ضروری ہے دل بھی شکار آتش ہو ہوئے ہیں غیر ترے اپنے کیوں کبھی سوچا ترے خلاف یہ اپنوں کی ہی نہ سازش ...