یہ خاکی پیرہن اک اسم کی بندش میں رہتا ہے
یہ خاکی پیرہن اک اسم کی بندش میں رہتا ہے زمانہ ہر گھڑی ورنہ نئی سازش میں رہتا ہے اسی باعث میں اپنا نصف رکھتا ہوں اندھیرے میں مرے اطراف بھی سورج کوئی گردش میں رہتا ہے میں اک پرکار سا سیار بھی ہوں اور ثابت بھی جہاں سارا مرے قدموں کی پیمائش میں رہتا ہے مری آنکھوں میں اب ہے موجزن ...