قومی زبان

یہ خاکی پیرہن اک اسم کی بندش میں رہتا ہے

یہ خاکی پیرہن اک اسم کی بندش میں رہتا ہے زمانہ ہر گھڑی ورنہ نئی سازش میں رہتا ہے اسی باعث میں اپنا نصف رکھتا ہوں اندھیرے میں مرے اطراف بھی سورج کوئی گردش میں رہتا ہے میں اک پرکار سا سیار بھی ہوں اور ثابت بھی جہاں سارا مرے قدموں کی پیمائش میں رہتا ہے مری آنکھوں میں اب ہے موجزن ...

مزید پڑھیے

فنا ہوا تو میں تار نفس میں لوٹ آیا

فنا ہوا تو میں تار نفس میں لوٹ آیا خوشا کہ عشق تری دسترس میں لوٹ آیا نہ جانے اس نے کھلے آسماں میں کیا دیکھا پرندہ پھر سے جہان قفس میں لوٹ آیا کسی کے جبر میں کتنا تھا اختیار مجھے برا کیا کہ جو میں اپنے بس میں لوٹ آیا یہ حاشیے ترے گمراہ کر رہے تھے مجھے کتاب زیست سو میں تیرے نص میں ...

مزید پڑھیے

نت نئے نقش سے باطن کو سجاتا ہوا میں

نت نئے نقش سے باطن کو سجاتا ہوا میں اپنے ظاہر کے خد و خال مٹاتا ہوا میں لحظہ لحظہ یہ فدا ہوتی ہوئی مجھ پہ حیات اور ہر آن نظر اس سے چراتا ہوا میں جانے کس رت میں کھلیں گے یہاں تعبیر کے پھول سوچتا رہتا ہوں اب خواب اگاتا ہوا میں ہر گھڑی بڑھتی ہوئی تشنہ لبی عشق تری! دل کے رستے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اضطراب ایسا ہوا دل کا سہارا مجھ کو

اضطراب ایسا ہوا دل کا سہارا مجھ کو کوئی ٹھہراؤ نہیں خود میں گوارا مجھ کو سر اٹھاتی ہے وہ تجدید کی خواہش مجھ میں نقش گر سوچنے لگتا ہے دوبارہ مجھ کو میں تہی دست کھڑا تھا سر صحرائے حیات آرزو نے تری یک لخت پکارا مجھ کو جا پہنچنا کسی رفعت کو نہیں ہے دشوار ہاں! ٹھہرنے کا وہاں چاہئے ...

مزید پڑھیے

بھلاؤں لاکھ میں آتا ہے لیکن یاد رہ رہ کر (ردیف .. ے)

بھلاؤں لاکھ میں آتا ہے لیکن یاد رہ رہ کر وہ آنا موسم گل کا وہ جانا میرا گلشن سے نشاط و عیش حاصل تھا چمن کے رہنے والے تھے یہ کیا معلوم تھا نسبت قفس کو بھی ہے گلشن سے عذاب جاں قفس کی تنگیاں پھر اس پہ یہ طرہ ہواؤں پر ہوائیں آ رہی ہیں صحن گلشن سے یہی تو حاصل ہستی ہے تم پر مٹنے والے ...

مزید پڑھیے

ہے تعجب آج تک بھی عشق کیوں رسوا نہیں

ہے تعجب آج تک بھی عشق کیوں رسوا نہیں درد بے آواز سا ہے غم کا بھی سایہ نہیں جو ہوا انجام دیوانے کا وہ ہوتا نہیں وہ سمجھ جاتا مگر کچھ ہم نے سمجھایا نہیں میرے کمرے کی بھی دیواروں سے یہ پوچھے کوئی کوئی کیا جانے کہ میں کیوں رات بھر سویا نہیں میں کہیں جاؤں میرے ہم رہ اس کی یاد ہے تم ...

مزید پڑھیے

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا وقت سحر اٹھا میں دعا مانگتا ہوا ہر ہر نفس میں لفظ محبت زباں پہ ہے مجھ میں نہ جانے کون ہے یہ بولتا ہوا پایا نہیں کسی نے بھی یہ راز کائنات ایک شخص کھو گیا ہے خدا ڈھونڈھتا ہوا اس سے چھپا نہ پائے گا تو اپنا حال دل آنکھوں کا آئینہ ہے ابھی بولتا ...

مزید پڑھیے

حسیں ہیں کس قدر منظر میں خود کو بھول جاتا ہوں

حسیں ہیں کس قدر منظر میں خود کو بھول جاتا ہوں تمہارے شہر میں آ کر میں خود کو بھول جاتا ہوں نہیں رہتا ذرا بھی ہوش مجھ کو آنے جانے کا تمہارے پاس میں آ کر میں خود کو بھول جاتا ہوں میں کیا ہوں کون ہوں رہتی نہیں کچھ بھی خبر مجھ کو تمہاری یاد میں اکثر میں خود کو بھول جاتا ہوں مرا سونا ...

مزید پڑھیے

اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے

اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے جینے میں کیا رکھا ہے مجھے مار دیجیے دل کے مرض کا اب نہیں دنیا میں کچھ علاج یہ عشق لا دوا ہے مجھے مار دیجیے میں بے گناہ ہوں تو یہی ہے مری سزا یہ فیصلہ ہوا ہے مجھے مار دیجیے ڈرتا ہوں آئنے کو لگانے سے ہاتھ میں کہتا یہ آئینہ ہے مجھے مار دیجیے میں ...

مزید پڑھیے

ہماری عقل پر تالے پڑے ہیں

ہماری عقل پر تالے پڑے ہیں کھنڈر ہے ذہن اور جالے پڑے ہیں بظاہر صاف آتے ہیں نظر دل مگر اندر سے یہ کالے پڑے ہیں کبھی دیکھو پلٹ کر آستیں کو کئی ہی سانپ ہم پالے پڑے ہیں میسر کیسے ہو دو وقت روٹی کہ جب اک وقت کے لالے پڑے ہیں کریں خود ہی خزاؤں کے حوالے چمن کے ایسے رکھوالے پڑے ہیں بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5052 سے 6203