قومی زبان

وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے

وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے آئے وہ شب وعدہ تصور کے سہارے وہ کالی گھٹا اور وہ بڑھتے ہوئے دھارے زاہد بھی اگر دیکھے تو ساقی کو پکارے وہ جلوہ گاہ ناز وہ مخمور نگاہیں اب کیا کہوں یہ لمحے کہاں میں نے گزارے خود حسن کا معیار نرا ذوق نظر ہیں اتنے ہی حسیں آپ ہیں جتنے مجھے پیارے بے ...

مزید پڑھیے

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں پھول ہیں دل کشی نہیں چاند ہے چاندنی نہیں ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر ملی نہیں آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں عشق میں شکوہ کفر ہے اور ...

مزید پڑھیے

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا کچھ دیر تو اے ساعت شب مجھ میں ٹھہر جا اب اور سنبھالی نہیں جاتی تری حرمت یوں کر غم جاناں میری نظروں سے اتر جا تا عمر ترا نقش فروزاں رہے مجھ میں اک زخم کی صورت مرے ماتھے پہ ابھر جا چھوڑ آنا وہیں پر ذرا آوارہ مزاجی صحرا کی طرف اے دل نادان اگر ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب ہاں یہی شب یہ مری ہجر بنا لی گئی شب پہلے ظلمت کا پرستار بنایا گیا میں اور پھر میری نگاہوں سے اٹھا لی گئی شب رات بھر فتح وہ کرتی رہی اجیاروں کو صبح دم اپنے اندھیروں سے بھی خالی گئی شب تا سدا مجھ میں رہیں چاند ستارے روشن میری مٹی میں طبیعت سے ملا ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں سے سناؤں تمہیں فسانۂ شب

کہاں کہاں سے سناؤں تمہیں فسانۂ شب طویل گزرا ہے مجھ پر بہت زمانۂ شب مہک رہا ہے ہمیں سے حریم گلشن روز ہمیں سے نور فزا ہے نگار خانۂ شب ہوا ہے حکم یہ منجانب شہ ظلمات حدود شہر سیہ چھوڑ دے دوانۂ شب خموش ہوتے ہیں دن کے تمام تر سکے کھنکتا رہتا ہے کشکول دل میں آنۂ شب ہر ایک شاخ پہ ...

مزید پڑھیے

ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے

ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے یہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے سو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاں دعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے حل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہے ان زندہ مسائل پر بحث ...

مزید پڑھیے

سورج ساگر

ترے منظر پر کوئی چاند ابھرے کچھ کہتا رہے تری لہروں سے تو چاند کی چاہت میں پھولے میں جلتا رہوں بس تیرے لیے مجھے کیا لینا مجھے کیا کہنا مرے ساگر میں وہ سورج ہوں جو آگ شفق سب طے کرتا بالآخر تجھ میں ڈوب چلا

مزید پڑھیے

تو پھر یہ دیکھا

تو پھر یہ دیکھا کہ روشنی کے حصار میں ایک دیو قامت شجر کھڑا ہے کہ جس نے شانوں پہ بے شمار شاخیں اٹھا رکھی ہیں کہ بے شمار شاخوں پہ ان گنت کونپلیں کھڑی ہیں جو اپنی آنکھوں کی نرمیوں سے نمو کا اعجاز دیکھتی ہیں اور اپنی زندہ سماعتوں میں لہو کی آواز سن رہی ہیں تو پھر یہ دیکھا نہ کوئی کونپل ...

مزید پڑھیے

قرض

اک عدن جل رہا تھا نگہباں خدا اس گھڑی ساتویں آسماں پر نہ تھا اور ازل سے ابد تک احاطہ کیے ایک افعی کی منحوس آواز تھی اور خدا میرے شام و سحر میں نہ تھا میرے گھر میں نہ تھا اور خدا جو دبے پاؤں کھڑکی سے پیچھے ہٹا جو مرے ساتھ سونی سڑک پر رکا یک بیک منفعل ہچکیوں میں بکھرنے لگا اک جلال ...

مزید پڑھیے

لا حاصل

جانتا ہوں کہ ہم تم بچھڑ جائیں گے جانتا ہوں کہ دونوں ملے بھی کہاں رات لیکن مرے آسماں میں نے دیکھا مری آرزو کا سمندر تجھے چھو رہا تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 5054 سے 6203