ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیں
ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیں یاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیں دنیا کا بھرم قائم رکھنا اوروں کے لئے جینا مرنا اس دور کی وہ تہذیب نہیں اس دور کے وہ آداب نہیں کشتی پہ تھپیڑوں کا ہے اثر تیکھے سہی موجوں کے تیور پھر بھی پس منظر میں یارو سازش ہے کوئی گرداب ...