قومی زبان

ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیں

ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیں یاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیں دنیا کا بھرم قائم رکھنا اوروں کے لئے جینا مرنا اس دور کی وہ تہذیب نہیں اس دور کے وہ آداب نہیں کشتی پہ تھپیڑوں کا ہے اثر تیکھے سہی موجوں کے تیور پھر بھی پس منظر میں یارو سازش ہے کوئی گرداب ...

مزید پڑھیے

حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریں

حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریں مہہ‌ و نجوم ادب سے جسے سلام کریں نظر ملا کے جو کرتے ہیں بات سورج سے وہ ڈوبتے ہوئے تاروں سے کیا کلام کریں ابھی تو وقت ہے تزئین میکدہ کے لئے بجائے رخنہ گری مل کے کوئی کام کریں اٹھو اٹھو کہ مشاغل ہیں اور بھی یارو فسانۂ غم ماضی یہیں تمام ...

مزید پڑھیے

کیا کہا اکیلی کر جاتی ہوں

اچھا چلو چھوڑو تم بتاؤ کب کے نکلے کب آئے تم تو بڑے پکے ہو کیا کہا ہاں وہی دھن کے یہی مطلب اچھا معنی تو ویسے بھی سب کے اپنے ہیں اجی دل کی چھوڑو چھوڑ ہی دو نا صبح گئے شام تو آتی ہی نہیں رات تو تمہاری اپنے نام کام کی ہے کون جانے کسے اکیلا پا کر ساتھ نبھانے جاتے ہو ہاں یہاں نہیں تو یہاں ...

مزید پڑھیے

اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیں

اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیں نقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیں ضرورت تیر یا تلوار کی ان کو نہیں ہوتی نظر کی مار سے وہ عاشقوں کی جان لیتے ہیں وہاں تو جس کو بھی جانا ہے خالی ہاتھ جانا ہے نہ جانے لوگ پھر کیوں اس قدر سامان لیتے ہیں عنایت کی کرم کی اک نظر کرتے ...

مزید پڑھیے

تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح

تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح بیچا گیا میں آج بھی ہر بار کی طرح قاتل ہے میری جان کا دشمن ہے وہ مگر ملتا ہے مجھ سے جو کسی غم خوار کی طرح اک شے کہ جس کا نام ہے احساس ذہن میں پیہم کھٹکتا رہتا ہے اک خار کی طرح میں اپنی بے گناہی پہ خود اپنے آپ میں رہتا ہوں شرمسار گنہ گار کی طرح کرتے ...

مزید پڑھیے

کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہے

کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہے یہاں یقین بھی سب کا گمان جیسا ہے یہاں پہ آ کے ہمیشہ سکوں ملا ہم کو تمہارا گھر بھی ہمارے مکان جیسا ہے کمال ہے کہ کسی سے وہ کچھ نہیں کہتا زبان ہو کے بھی وہ بے زبان جیسا ہے قدم قدم پہ نیا اک سوال ہے یارو یہ زندگی کا سفر امتحان جیسا ہے ہمارے سر پہ ...

مزید پڑھیے

اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہے

اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہے پر تو کاٹے گئے پر جان ابھی باقی ہے حادثوں سے ابھی ٹوٹا نہیں رشتہ میرا دل میں اٹھتا ہے جو طوفان ابھی باقی ہے تم جو کہتے ہو کہ دنیا کو خریدو گے مگر بک نہیں سکتا جو انسان ابھی باقی ہے ہٹ سکے کیسے برائی کہ اسی دنیا میں شر ابھی زندہ ہے شیطان ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4157 سے 6203