قومی زبان

ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیں

ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیں ہم پھر نئے صفر کا آغاز کر رہے ہیں سچ بولنے لگے ہیں جب سے زباں ملی ہے ہر شخص کا یہاں ہم اعزاز کر رہے ہیں آئینہ پڑھ لیا ہے اس بار ہم سبھی نے خاموش تھے جو کل تک آواز کر رہے ہیں بیزار ہو رہا ہے جس درد سے زمانہ اس درد کو ہم اپنا دم ساز کر رہے ...

مزید پڑھیے

کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئے

کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئے اس سفر میں ہمیں ہم سفر چاہئے دشمنوں کو تو تم جانتے ہو مگر دوستوں کی بھی تھوڑی خبر چاہئے خوب صورت ہے دنیا بہت دوستو دیکھنے کے لئے بس نظر چاہئے لوگ سن لیں گے اور مان بھی جائیں گے بات میں اپنی لیکن اثر چاہئے ہم پڑوسی سے اپنے رہے بے خبر ساری دنیا کی ہم ...

مزید پڑھیے

بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہے

بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہے ہمیں بتا دو تمہیں انتظار کس کا ہے بہت عزیز ہیں تم کو مگر ذرا سوچو وہ جان من ہے تو جان بہار کس کا ہے سنا ہے ہم نے وہ دشمن ہمیں سمجھتا ہے اگر یہ سچ ہے تو یارو وہ یار کس کا ہے وہ ہر کسی کو ہی شک کی نظر سے تکتا ہے پتا کرو کہ اسے اعتبار کس کا ہے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کون

میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کون ہنستا ہے جو سب کے دکھ میں اس کے دکھ میں روئے کون یادیں اس کی باتیں اس کی اس کے ہی اب چرچے ہیں واسطہ ہے جو اس کے دل میں اس کے دل میں ہوئے کون نرم ملائم ہے بستر پر نیند ذرا بھی آئے نہ پتھر کو سرہانے لے کر گہری نیند یہ سوئے کون سب مجھ کو اپنے ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہو

چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہو پیار کی آگ اب ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو ان نظاروں سے کچھ نہیں ہوگا کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو ان دیواروں میں قید ہو شاید اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو ہو پتا اب بہاروں کا ہم کو وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو ہر گھڑی اب شکایتیں ...

مزید پڑھیے

وہ بھی تیری تھی نظر جس نے مجھے شاد کیا

وہ بھی تیری تھی نظر جس نے مجھے شاد کیا یہ بھی ہے تیری نظر جس نے کہ برباد کیا برق کا کام نشیمن کو جلانا ہے مگر اک نشیمن ہے جسے برق نے آباد کیا ایک ٹھوکر نے کبھی بخشی ہے مردے کو حیات ایک ٹھوکر نے کبھی زیست کو برباد کیا اس زباں نے کبھی دشمن کو بنایا اپنا اس زباں نے کبھی احباب کو ...

مزید پڑھیے

وہ انساں جو شکار گردش ایام ہوتا ہے

وہ انساں جو شکار گردش ایام ہوتا ہے بھلا کرتا ہے دنیا کا مگر بدنام ہوتا ہے جو دیکھو غور سے ہر شعر اک الہام ہوتا ہے سبھی اشعار سے ظاہر کوئی پیغام ہوتا ہے دہل جاتے ہیں دل کلیوں کے گلشن تھرتھراتا ہے چمن میں جب کوئی طائر اسیر دام ہوتا ہے خرد حائل ہوا کرتی ہے جب بھی راہ الفت میں جنون ...

مزید پڑھیے

جس میں نہ ہو سکوں نصیب ایسے جہاں کو کیا کروں

جس میں نہ ہو سکوں نصیب ایسے جہاں کو کیا کروں راحت دل نہ ہو جہاں ایسے مکاں کو کیا کروں صبح نسیم کی جگہ باد سموم تند و تیز گل کے بجائے خار ہیں باغ جہاں کو کیا کروں وعدے ہزار ہا کیے رہبر قوم نے مگر وعدہ کوئی وفا نہیں ایسی زباں کو کیا کروں طوطیٔ گل ادا نہیں بلبل خوش نوا نہیں کرگس و ...

مزید پڑھیے

وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے

وہ چشم ناز اگر خود کو وقف ناز کرے ہر اہل قلب و نظر خم سر نیاز کرے گدا کو شاہ تو شہہ کو گدا نواز کرے جسے بھی جس طرح چاہے وہ سرفراز کرے حقیقت بشری کیا ہے قطرۂ ناچیز زباں نہ حد سے زیادہ بشر دراز کرے ترا غلام بصد احترام حاضر ہے تری خوشی ہے اگر اس کو سرفراز کرے خدا ہے قادر مطلق بشر کو ...

مزید پڑھیے

کسی کے نقش پا پر رکھ دیا ہے جب سے سر اپنا

کسی کے نقش پا پر رکھ دیا ہے جب سے سر اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ گھر اپنا نہ در اپنا نہ کوئی کارواں اپنا نہ میر کارواں کوئی خیال یار رہتا ہے ہمیشہ راہبر اپنا کہاں باقی ہے اب عقل و خرد سے واسطہ اے دل مرا ذوق نظر خود بن گیا ہے راہبر اپنا نصیحت کرنے والوں کا بھلا ہو کیا وہ سمجھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4158 سے 6203