اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیں

اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیں
نقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیں


ضرورت تیر یا تلوار کی ان کو نہیں ہوتی
نظر کی مار سے وہ عاشقوں کی جان لیتے ہیں


وہاں تو جس کو بھی جانا ہے خالی ہاتھ جانا ہے
نہ جانے لوگ پھر کیوں اس قدر سامان لیتے ہیں


عنایت کی کرم کی اک نظر کرتے ہیں بدلے میں
کبھی وہ جان لیتے ہیں کبھی ایمان لیتے ہیں


ارادے پر اٹل رہتے ہیں اے آغازؔ ہم اپنے
وہی سب کر گزرتے ہیں جو من میں ٹھان لیتے ہیں