وہ اگر آئے تو پر نور سماں ہوتا ہے
وہ اگر آئے تو پر نور سماں ہوتا ہے اس کے آنے سے ہی موسم یہ جواں ہوتا ہے حال دل کب یہ نگاہوں سے بیاں ہوتا ہے راز الفت نہ یہ اوروں پہ عیاں ہوتا ہے نا کبھی شور نہ ہی آہ و فغاں ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے فقط زیر زباں ہوتا ہے یوں گزرتا ہے ملاقات کا ہر اک لمحہ جیسے لمحات کا دریا یہ رواں ہوتا ...