قومی زبان

خیال وصل

خیال وصل میں میں نے جو سارے لفظ لکھے ہیں سبھی ویران شاموں میں انہی گمنام راہوں میں وہ شمع بن کے چمکے ہیں کہ جیسے تم سے ملتے ہیں وصال یار کی مانند کڑکتی دھوپ میں بھی جب تنہا سایہ ہوتا ہے یہ دل پھر سے مچلتا ہے ہر اک لفظ بول اٹھتا ہے کسی شہر تمنا میں محبت کی مشعل جیسے مچلتی اور بلکتی ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو اداسی شام کی اوڑھے سکوت بام و در چھو کر محبت کا یقیں کیسے دلائے گی ردائے دل نشیں شب کی فضائے خوش گمانی میں حسیں سپنے جو لائے گی تو اپنی رائیگانی پر بہت آنسو بہائے گی پلٹ جائے گی یہ خوشبو تھکی ہاری ہوا کی اس ہتھیلی پر کہ جس پر گنگنائی تھی

مزید پڑھیے

پھر ترا شہر تری راہ گزر ہو کہ نہ ہو

پھر ترا شہر تری راہ گزر ہو کہ نہ ہو اور ہو بھی تو مجھے شوق سفر ہو کہ نہ ہو ہو نہ ہو پھر سے رگ و پے میں شراروں کا گماں پھر کبھی دوش پہ میرے ترا سر ہو کہ نہ ہو مانگ لوں تیرے حوالے سے تو شاید مل جائے کیا خبر صرف دعاؤں میں اثر ہو کہ نہ ہو ناامیدی کے یہ شب زاد ڈراتے ہیں مجھے تیرے آنے سے ...

مزید پڑھیے

میں اس کی آنکھ میں وہ میرے دل کی سیر میں تھا

میں اس کی آنکھ میں وہ میرے دل کی سیر میں تھا وہ اپنے شہر میں اور میں دیار غیر میں تھا ہم اپنے گھر سے بہت دور جا کے لوٹ آئے کسی کی آنکھ کا کانٹا ہمارے پیر میں تھا ملا تو اشک ندامت کی تہ میں اس کا سراغ کسی کے دل میں نہ کعبے میں تھا نہ دیر میں تھا میں جانتا ہوں لیا جا رہا تھا میرا ...

مزید پڑھیے

ماحول سے جیسے کہ گھٹن ہونے لگی ہے

ماحول سے جیسے کہ گھٹن ہونے لگی ہے بے کیفیتی عضو بدن ہونے لگی ہے کچھ فرق سا محسوس نہیں شام و سحر میں اٹھنے کے تصور سے تھکن ہونے لگی ہے مفقود ہوئی خنکیٔ احساس نظر سے سبزوں کو بھی دیکھے سے جلن ہونے لگی ہے کچھ اس سے گلہ بھی ہے کچھ اپنی بھی خطائیں یوں اس کے تصور سے چبھن ہونے لگی ...

مزید پڑھیے

سب مطمئن تھے صبح کا اخبار دیکھ کر

سب مطمئن تھے صبح کا اخبار دیکھ کر خائف تھے ہم نوشتۂ دیوار دیکھ کر منصف گواہ حد ہے کہ مظلوم بک گئے قیمت لگی جو ظرف خریدار دیکھ کر میں بوریا نشین غریب الوطن فقیر حیراں تھا شان و شوکت دربار دیکھ کر ناواقف رسوم حضوری تھا کہ گیا سب دم بخود تھے جرأت اظہار دیکھ کر ایسا نہیں کہ سب تھے ...

مزید پڑھیے

جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے

جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے ہر خود سری کو جاہ و حشم بولنے لگے اک اذن لب کشائی نے بے باک کر دیا دیکھو کس اعتماد سے ہم بولنے لگے کوئی کسی سے پوچھ رہا تھا ترا سراغ اٹھ اٹھ کے میرے نقش قدم بولنے لگے سمجھے تھے آستین چھپا لے گی سب گناہ لیکن غضب ہوا کہ صنم بولنے لگے حق گوئی کے محاذ ...

مزید پڑھیے

ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج

ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج ہوا کسی نے اڑا دی کہ مر گیا سورج سحر ہوئی نہیں کب سے گزشتہ شام کے بعد غروب ہو کہ نہ جانے کدھر گیا سورج سجی ہوئی ہے ستاروں کی انجمن اے دل کہ پارہ پارہ فلک پر بکھر گیا سورج لگا کہ کھینچ لی اس نے زمین پیروں سے لگا کہ تلووں کو چھو کر گزر گیا سورج یہ ...

مزید پڑھیے

آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے

آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے اس طرف نگاہیں ہیں اس طرف نشانہ ہے منزلوں کی باتیں تو منزلوں پہ کر لیں گے ہم کو تو چٹانوں میں راستہ بنانا ہے تم بھی ڈوبے ڈوبے تھے میں بھی کھوئی کھوئی تھی وہ بھی کیا زمانہ تھا یہ بھی کیا زمانہ ہے فاصلہ بڑھانے سے کیا ملا زمانے کو تب بھی آنا جانا تھا اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3866 سے 6203