قومی زبان

چہروں پہ خامشی کی لو روح سے ہم کلام ہیں

چہروں پہ خامشی کی لو روح سے ہم کلام ہیں یعنی جو غرق عشق ہیں ان کو مرے سلام ہیں خلوت دل ترے لیے آؤں گی جلد لوٹ کے ملنے کو آئے میہماں گھر کے دو چار کام ہیں کیسے ہیں میرے اقربا کیسی ہوں میں پتا نہیں باتیں ہیں خود سے رات دن بھولے تمام نام ہیں روز ازل سے ہیں جدا عقل و جنوں کے ...

مزید پڑھیے

الجھنیں اتنی تھیں منظر اور پس منظر کے بیچ

الجھنیں اتنی تھیں منظر اور پس منظر کے بیچ رہ گئی ساری مسافت میل کے پتھر کے بیچ رخ سے یہ پردہ ہٹا بے ہوش کر مجھ کو طبیب گفتگو جتنی بھی ہو پھر زخم اور نشتر کے بیچ اس کو کیا معلوم احوال دل شیشہ گراں ورنہ آ جاتا کبھی تو ہاتھ اور پتھر کے بیچ شوق سجدہ بندگی وارفتگی اور بے خودی معتبر ...

مزید پڑھیے

اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے

اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے یوں ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے کیسے ہیں یہ ارمان یہ کاوش یہ تگ و دو منزل نہیں معلوم تو گھر کیوں نہیں جاتے اشکوں کی طرح کیوں مری پلکوں پہ رکے ہو خنجر کی طرح دل میں اتر کیوں نہیں جاتے مانا کہ یہ سب زخم جگر تم نے دیئے ہیں مرہم سے کسی اور ...

مزید پڑھیے

ہے میرے گرد یقیناً کہیں حصار سا کچھ

ہے میرے گرد یقیناً کہیں حصار سا کچھ اور اس کو بھی ہے دعاؤں پہ اعتبار سا کچھ کہیں تو گوشۂ دل میں امید باقی ہے کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ یہ سارا کھیل فقط گردشوں کا ہے آہنگ فضول ڈھونڈ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

ثبوت جرم نہ ملنے کا پھر بہانہ کیا

ثبوت جرم نہ ملنے کا پھر بہانہ کیا کہ عدلیہ نے وہی فیصلہ پرانا کیا ہوا کے اپنے مسائل ہیں اور چراغ کے بھی نہ وہ غلط نہ عمل اس نے مجرمانہ کیا یہ تم نے جنگ کا عنوان ہی بدل ڈالا علم سجایا نہ لشکر کوئی روانہ کیا ہری بھری تھیں جو شاخیں وہی پھلیں پھولیں اسی شجر کو پرندوں نے آشیانہ ...

مزید پڑھیے

المیہ

دریچے میں کھڑی بارش کو سڑکوں پر برستے دیکھتی ہوں سوچتی ہوں دکھ کو اپنے نام کیا دوں میں تمناؤں کو گروی رکھ کے خوابوں کے سبھی دربند کر کے کتنی مشکل سے چھڑا کر اپنا دامن چھت اور آنگن کی تمنا سے فقط اک گھر کی خواہش میں یہ زنداں مول لے کر اس پہ اپنے نام کی تختی لگائی ہے بس اک خواہش ہے ...

مزید پڑھیے

تحیر عشق

بہ مشکل ایک حیرانی کو آنکھوں سے نکالا تھا کہ پھر اک اور حیرانی یہ بستی کیسی بستی ہے جہاں پر میرا ہر اک خواب حیرانی کی اک چادر کو اوڑھ سو رہا ہے اور تحیر کی قبا پہنے ہوئے ہیں اشک سارے اور یہاں تک کہ ہمارے عشق نے بھی ہجر کے اک سنگ پر جو لفظ لکھا ہے وہ حیرت ہے وہی اک لفظ جو اب میرے دل ...

مزید پڑھیے

ڈر

یہ ڈر جو ساتھ چلتا ہے مری ماں کی امانت ہے میں جب چھوٹی سی بچی تھی تو میری ماں نے اس ڈر کو مرے دل کے کسی سنسان گوشے میں بڑی مشکل سے ڈالا تھا وہ کہتی تھی کہ میں تنہا کہیں باہر نہ جاؤں کیوں نہ جاؤں بحث کرتی میں وہاں پر بھیڑیے پھرتے ہیں انسانوں کی صورت میں میں اس کی بات سن کر دل میں ہنس ...

مزید پڑھیے

کرن سے ایک مکالمہ

اندھیرا ڈانٹ کر بولا سنو سورج کی اے ننھی کرن اب گھر چلی جاؤ تمہاری راجدھانی پر حکومت اب مری ہوگی کرن نے مسکرا کر دیو قامت اور پر ہیبت اندھیرے پر نظر ڈالی تحمل سے یقیں اور حوصلے کو بھر کے اپنے نرم لہجے میں کہا دیکھو چلی تو جاؤں گی لیکن ہر اک دل میں رہوں گی اک نئی امید کی صورت ہر اک ...

مزید پڑھیے

تعلق

تعلق کانچ کا برتن نہیں ہاتھوں سے چھوٹے اور چکنا چور ہو جائے تعلق آہنی دیوار ہوتا ہے تعلق آسمانوں پر چمکتا اک ستارہ بھی نہیں جو رات بھر چمکے مگر جیسے ہی سورج اپنی کرنوں کو زمیں پر پھیلنے کا حکم دے تو وہ کہیں روپوش ہو جائے تعلق آسماں ہے تعلق موسموں کا حسن کب ہے جو سدا باقی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3868 سے 6203