قومی زبان

پرندہ لوٹ کر نہیں آتا

پرندہ صبح سے شام تک بھٹکتا ہے شام ڈھلتی ہے تو اپنی پناہ گاہ میں لوٹ آتا ہے مگر اپنے پنجوں میں اٹکے خواب جنگلوں بیابانوں وادیوں اور میدانوں کو سونپ آتا ہے خواب رات بھر ادھر ادھر بھٹکتے ہیں مگر آنکھوں کی کھڑکیاں ان پر نہیں کھلتی خواب پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں پرندے کو بلاتے ہیں مگر ...

مزید پڑھیے

خدا کون سے آسماں پر رہتا ہے

اکثر اخبار میں صبح سویرے لفظوں کے اندر چھم چھم ناچتی خون کی بوندیں دیکھ کر میں سوچ میں پڑ جاتی خدا کون سے آسمان پر رہتا ہے خود سے پوچھتی سب سے پوچھتی جواب میں ایک گھنی چپ میرا منہ چڑھاتی مگر آج اتنے سارے پھولوں کے جنازے دیکھے تو میں نے قطرہ قطرہ ٹپکتے خون کی حقیقت تازہ گلاب کی ...

مزید پڑھیے

نظم مجھے لکھتی ہے

میں نظم کو نہیں لکھتی نظم مجھے لکھتی ہے نظم میرے ہونٹوں سے ہنستی میری آنکھوں سے روتی ہے میں مصروف ہوتی ہوں تو نظم میرے بستر پر آرام کرتی ہے نظم کی خوابوں بھری نیلی آنکھیں میرا تعاقب کرتی ہیں تو میرا خالی پن لفظوں سے بھر جاتا ہے اور جب سرمئی شام رات کی اندھیری کوکھ میں زینہ زینہ ...

مزید پڑھیے

ایک نئی بوطیقا

سنو تمہارے پھپھوند لگے جذبے اب کسی کو متأثر نہیں کر سکتے کیونکہ حروف تہجی سے لفظوں کی ایک نئی بوطیقا لکھی جا رہی ہے جس میں میم سے محبت د سے درد اور ج سے جدائی نہیں شاید ان لفظوں کو زنجیروں سے باندھ کر کسی اندھے کنویں میں پھینک دیا گیا ہے لفظ بھی اب تو سازشیں کرنے لگے ہیں محبت کو ...

مزید پڑھیے

بیساکھ میں بارش

سوکھی دیوار پہ مینہ آ کے مسلسل برسا چھت کے پہلو میں ٹکا دھات کا پرنالہ بہا شہر کو جاتی سیاہ کار سڑک بھیگ گئی دیکھ کے بدلیاں رمضان مسلسل بھاگا کھینچ کے لائی ہوا مینہ کا آبی دھاگا کھیت کے بیچ میں بادل کا گریبان کھلا اور دھرتی کے کھلے منہ میں آکاش گھلا بھوسہ کھلیان کے پالان پہ جا ...

مزید پڑھیے

بلاوا

کسی پامال رستے پر اگے کیکر بہت سے سنگ پارے ان گھڑے پتھر خزاں کے زرد چہرے پہ بنی حسرت کی تصویریں سلگتی ریت زنجیریں پرندے آسماں سورج ستارے برف تنویریں چٹانوں میں کھدے کتبے مٹی تحریر تمثیلیں کسی افغان کے کچے مکاں پہ پھیلتی انگور کی بیلیں پہاڑوں کی ہتھیلی سے لڑھکتی کاسنی ...

مزید پڑھیے

پیاری ماں

پیاری ماں اک بات بتا جس شہر میں اب تو جا کے بسی ہے اس کا موسم کیسا ہے کیا اس بستی میں دن ہوتا ہے واں پہ رات اترتی ہے کیا قبر کی تنہائی میں لیٹا وقت سمے کچھ کہتا ہے یا دن اور رات کی قید سے عاری انت زمانہ بہتا ہے کیا سورج گولے کی چند کرنیں اندر جا کے گرتی ہیں کیا چھت کے نیلے امبر اوپر ...

مزید پڑھیے

خفی رہا یا جلی عالم شہود میں تھا

خفی رہا یا جلی عالم شہود میں تھا میں امر کن سے بھی پہلے کسی وجود میں تھا کسی صدا نے برانگیختہ کیا مجھ کو وگرنہ میں بھی اسی حلقۂ خمود میں تھا مجھے شعور دیا بعثت پیمبر نے پھر اس کے بعد میں اللہ کے جنود میں تھا مجھے حسین نے ذرے سے ماہتاب کیا میں بے نشان تماشائے ہست و بود میں ...

مزید پڑھیے

آدمی روشنی نہیں پائے

آدمی روشنی نہیں پائے جب تلک بندگی نہیں پائے چار سو علم کے خزانے ہیں پر بشر آگہی نہیں پائے تار سیماب و سوزن زر سے چاک دامن کا سی نہیں پائے جام آب حیات سے پر تھا ایک قطرہ بھی پی نہیں پائے کتنے ناداں تھے مرنے والے سب جیسے جینا تھا جی نہیں پائے

مزید پڑھیے

زلف زنجیر پا ہوئی جب سے

زلف زنجیر پا ہوئی جب سے ہم اسیر معاش ہیں تب سے مدرسوں نے بنا دیا نوکر عمر ساری گنوائی اس ڈھب سے پیٹ کی آگ کیوں نہیں بجھتی جستجو کر رہے ہیں ہم کب سے ہم فقط مانگ کر ہی جیتے ہیں کاش غیرت بھی مانگ لیں رب سے اس کو دولت نے کیا اٹھانا ہے گر گیا جو حیا کے مرکب سے ختم قرآں ہے نیکیوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2355 سے 6203