قومی زبان

زندگی موت کی پناہ میں ہے

زندگی موت کی پناہ میں ہے یہ حقیقت مری نگاہ میں ہے زندگی غم کا استعارہ ہے درد جیون کے سال و ماہ میں ہے موت کے بعد پھر سے جینا ہے جانے کیا کیا دل الٰہ میں ہے کوئی مجنوں کی آنکھ سے دیکھے کس قدر نور رو سیاہ میں ہے اتنی رفتار روشنی کی نہیں جتنی سرعت کسی کی آہ میں ہے ملک کنعان غرق ...

مزید پڑھیے

طمع کا دور ہے حاتم عطا کر

طمع کا دور ہے حاتم عطا کر نجف کے شاہ سا حاکم عطا کر زمیں پر غاصبوں کی ہے حکومت زمیں کو موسیٔ کاظمؔ عطا کر تری دھرتی پہ تیرا عدل چاہیں نظام عدل کا ناظم عطا کر جو بھوکوں کو کھلائے نرم روٹی ہمیں مولا وہی ہاشم عطا کر ملے شاعر کو راز کن فکونی علی کے علم کا راقم عطا کر جو کاٹے مرحب و ...

مزید پڑھیے

شب کی آغوش میں جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

شب کی آغوش میں جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے نیند اک خواب پریشان کا گھر لگتا ہے چیخ اٹھتے ہیں ٹھٹھرتے ہوئے پتے جوں ہی سرد جھونکے کا گھنی شاخ سے سر لگتا ہے یوکیلپٹس کے درختوں پہ پسارے پاؤں اونگھتا چاند اداسی کا نگر لگتا ہے دیکھ کر آب زدہ شہر کو ساحل بولا ڈوب جانے میں کہاں کوئی ہنر لگتا ...

مزید پڑھیے

دیے کی لو اگر زخمی ہوئی ہے

دیے کی لو اگر زخمی ہوئی ہے ہوا بھی رات سے سہمی ہوئی ہے گلی کے پار سناٹے کی بارش گھروں نے خامشی پہنی ہوئی ہے مرے گاؤں کے کچے راستے کی اداسی دھول میں لپٹی ہوئی ہے شجر پر کیا کوئی جادو ہوا ہے کہ ڈالی بیل سے چمٹی ہوئی ہے سرہانے رکھ کے چرخہ اور پونی تھکی بڑھیا ذرا لیٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مہا پربت کی آنکھوں سے بہا ہے

مہا پربت کی آنکھوں سے بہا ہے جو آنسو جا کے سندھو میں گرا ہے کب اتریں گے سفینے پانیوں پر یہ دریا کب سے تنہا بہہ رہا ہے پرانے معبدوں میں ایک راہب ابھی تک عہد نامہ کھولتا ہے جلے زیتون کی ٹہنی کے اوپر حلب کی فاختہ محو دعا ہے پہاڑی راستوں پہ آخر شب تمہارا رب ہتھیلی کھولتا ہے

مزید پڑھیے

دھول مٹی گرد نے سونی فضا آباد کی

دھول مٹی گرد نے سونی فضا آباد کی خاک پر کنجی دھری تھی خانۂ برباد کی سرنگوں محراب یہ ٹوٹی منڈیریں بام و در طاق میں پھیلی ہوئی سرگوشیاں اجداد کی میں نہیں پہنچا تو تیرے نقش پا نے دیر تک راہ کے پتھر سے سوکھی گھاس سے فریاد کی ڈھونڈھتا پھرتا ہے اکثر یاد کی گلیوں میں دل اونگھتی جمنا ...

مزید پڑھیے

کیا کسی بیج کا یہ خون بہا تھا لوگو

کیا کسی بیج کا یہ خون بہا تھا لوگو پیڑ جنگل سے بہت دور اگا تھا لوگو لاکھ مشکل ہو مرا ہاتھ سنبھالے رکھنا در سے دیوار نے کل رات کہا تھا لوگو دن کی آغوش میں سورج کا سلگتا ہوا تن شام ہوتے ہی سمندر میں گرا تھا لوگو دیکھ کر مجھ کو اکیلا مری دل جوئی کو سایہ دیوار سے کچھ دور ہٹا تھا ...

مزید پڑھیے

کالی رات کا نخرہ دیکھو (ردیف .. ے)

کالی رات کا نخرہ دیکھو ظالم کیسے اتراتی ہے تاروں کا کمخواب پہن کے چاند کو اکثر بہکاتی ہے تکیے پر سرگوشی رکھ کے کان کی بالی سو جاتی ہے زہریلے ناگوں کی سانسیں رات کی رانی مہکاتی ہے چاند سمندر میں اترے تو جل کی مچھلی مر جاتی ہے

مزید پڑھیے

ابر ویراں جزیرے پہ جھکتا ہوا چاند تاروں پہ زلفیں گراتے ہوئے

ابر ویراں جزیرے پہ جھکتا ہوا چاند تاروں پہ زلفیں گراتے ہوئے گھاٹ پر ایک کشتی تھی ٹوٹی ہوئی پانیوں پر کنول سرسراتے ہوئے چاند امشب دبے پاؤں چلتا ہوا زرد اشجار کی شاخ پر آئے گا جل پری جھٹ سے پانی میں چھپ جائے گی صفحۂ آب پر دل بناتے ہوئے ساربانوں کے اٹھتے قدم رک گئے اک تمنا کی حدت ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

رات اندھیری کالا بادل دور تلک ویرانی ایک اکیلی کشتی جس کے نیچے گہرا پانی لہروں کی پھنکار کے آگے کشتی کا من ڈولے شوا سمندر کے سینے پہ برکھا موتی رولے دور کسی ویران جزیرے اوپر الو بولے الو کی آواز کو سن کے جاگ اٹھی پروائی رات کا دیسی شالا اوڑھے پیڑ سے ملنے آئی شاخ پہ اٹکی ڈال پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2356 سے 6203