قومی زبان

محبت کو کبھی یاد نہ بننے دینا

کبھی محبت کو یاد نہ بننے دینا تمہیں معلوم نہیں ہے محبت یاد بن جائے تو لمبے گھنے درختوں کی شاخوں کی مانند بدن کے گرد یوں لپٹ جاتی ہیں کہ سانسیں رک رک کر آتی ہیں ایک لمحہ کو یوں لگتا ہے جیسے زندگی اور موت کے بیچ خانہ جنگی میں زندگی ہار جائے گی مگر محبت کی سسکیاں کچھ دیر سہم کر چپ ...

مزید پڑھیے

آتش بازی کے کھیل کھیلنے والو

آتش بازی کے کھیل کھیلنے والو تم کیا جانو پرندہ بھی خواب دیکھتا ہے محبت کے پیار کے اور امن کے خواب جانتے ہو جب اس کے خوابوں میں بارود کی بو بس جائے تو خوابوں کی دیواریں بھربھری ہو کر بکھرنے لگتی ہیں پرندہ روٹھ جاتا ہے سب سے اپنے آپ سے بھی پرندہ سہما سہما گم صم سا پھرتا ہے بے خواب ...

مزید پڑھیے

گیت میرے ہیں مگر نور سخن اس کا ہے

گیت میرے ہیں مگر نور سخن اس کا ہے حق تو یہ ہے کہ مرا جوہر فن اس کا ہے پھول تو پھول ہیں کانٹوں کی روش بھی اس کی باغباں کچھ بھی کہے رنگ چمن اس کا ہے سبز موسم کی مرے در پہ جو دستک جاگی میں نے جانا کہ یہی طرز سخن اس کا ہے موج گل باد صبا رنگ چمن آب رواں سارے عالم میں اگر ہے تو چلن اس کا ...

مزید پڑھیے

اے آبلہ پا اور بھی رفتار ذرا تیز

اے آبلہ پا اور بھی رفتار ذرا تیز اس دشت پر اسرار میں چلتی ہے ہوا تیز آثار تو کچھ ایسے خطرناک نہیں تھے کیا جانئے کس طرح یہ طوفان ہوا تیز کچھ ابر و ہوا برق و شرر سے نہیں مطلب اس دور پر آشوب میں ہر شے ہے سوا تیز کیا موج سخن کیا نفس صاعقہ پرور بس یہ ہے کہ ہو جاتی ہے آواز انا ...

مزید پڑھیے

جہاں پہ ڈوب گیا تھا کبھی ستارہ مرا

جہاں پہ ڈوب گیا تھا کبھی ستارہ مرا اسی افق پہ جہاں تاب ہے نظارہ مرا یہی ہوا کہ پرندے فضا میں تیر گئے نہ کام آئیں مری بندشیں نہ چارہ مرا ہوائے دشت بھی مجنوں صفت نہیں ہے اگر تو اس مقام پہ شاید نہ ہو گزارہ مرا ابھی تو حرف تمنا لکھا نہیں میں نے ابھی سے کیوں ورق جاں ہے پارہ پارہ ...

مزید پڑھیے

قطرہ ہوں مگر رونق صحرا ہوں برا ہوں

قطرہ ہوں مگر رونق صحرا ہوں برا ہوں مظلوم کے زخموں کا مسیحا ہوں برا ہوں وہ بیعت فرعون کے قائل ہیں سو اچھے میں وقت کے نمرود سے الجھا ہوں برا ہوں طاغوت زمانہ کو وہ دیتے ہیں سلامی میں اس کو خطا کار جو کہتا ہوں برا ہوں وہ شہر میں کرتے ہیں اندھیروں کی تجارت میں ظلم کی بستی کا اجالا ...

مزید پڑھیے

وصال یار تمنائے خام ہے شاید

وصال یار تمنائے خام ہے شاید یہ دور ہجر ابھی ناتمام ہے شاید جبین عشق نے جاں پہلی بار سجدہ کیا ترا نشان قدم وہ مقام ہے شاید میں جس کتاب کو ہر شام رو کے پڑھتا ہوں مرے صنم کی زباں کا کلام ہے شاید تمام زیر زبر پیش اور حرفوں کا برائے سوز و الم اہتمام ہے شاید بجھا سکا نہ میں اشکوں سے ...

مزید پڑھیے

ترے فلک پہ کہیں میرا ماہتاب نہیں

ترے فلک پہ کہیں میرا ماہتاب نہیں وہ روشنی کا وسیلہ ترے جناب نہیں گنوا چکا ہے تو ساقیٔ حوض کوثر کو کہ تیرے ظرف میں اب تک شراب ناب نہیں تری زبان پہ اللہ ہو کا نعرہ ہے ترے شعار میں اللہ کی کتاب نہیں تو رو رہا ہے بنا مقصد حسینی کے تری عزا میں کہیں زینبی نصاب نہیں تری نگاہ طلب گار ...

مزید پڑھیے

مزاج شوق میں ماموریت کا عزم بھی ہو

مزاج شوق میں ماموریت کا عزم بھی ہو فقط سکون نہیں زندگی میں رزم بھی ہو شب اخیر چراغوں کی لو بجھے تو وہاں صدائے لا سے منور تمہاری بزم بھی ہو حیات موت ہے انداز حیدری کے بغیر ستیزہ گاہ میں حرف جنوں پہ جزم بھی ہو بمعہ شعور و ارادہ و جستجو و خرام ترے نصاب میں نقاشؔ باب حزم بھی ہو

مزید پڑھیے

مرا دیار شناسائے رنگ و نور نہیں

مرا دیار شناسائے رنگ و نور نہیں اگرچہ شمس و قمر اس نگر سے دور نہیں جمال و پیکر و اندام کی گھٹائیں ہیں کسی بھی دل پہ تجلیٔ کوہ طور نہیں خدا سے عشق کی پہلی حسیں نشانی ہے وہ اک نماز کہ جس میں خیال حور نہیں حجاب محمل لیلیٰ کو تو اٹھا نہ سکا کہ تیری آنکھ میں دیدار کا شعور نہیں نصاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2354 سے 6203