قومی زبان

لکھی تھی جو کہانی وہ کہانی یاد آتی ہے

لکھی تھی جو کہانی وہ کہانی یاد آتی ہے تمہارے پیار کی مجھ کو نشانی یاد آتی ہے بہاروں کا سماں سا ہے بھرے گلشن میں دیکھو تو گلابوں کی وہ رت اکثر سہانی یاد آتی ہے کہی ہے جو غزل میں نے اسی کے نام کر دی ہے ہمیں اب اس کے لہجے کی روانی یاد آتی ہے کہاں سے لاؤں خون دل تمہیں اب یاد کرنے ...

مزید پڑھیے

اتنی مشکل تو نہ تھی میری کتاب زندگی

اتنی مشکل تو نہ تھی میری کتاب زندگی کچھ الجھ کے رہ گیا ہے اب نصاب زندگی زندگی لیتی ہے مجھ سے ایک اک پل کا حساب تھک گئی ہوں دیتے دیتے میں حساب زندگی مجھ کو پیش آتی رہی ہیں مشکلیں ہی مشکلیں جان لیوا ہے الٰہی یہ عذاب زندگی مجھ سے گر کوئی بھی پوچھے زندگی کیا چیز ہے میں کہوں گی ایک ...

مزید پڑھیے

اپنے عہد زوال سے نکلی

اپنے عہد زوال سے نکلی ایک مچھلی کہ جال سے نکلی گم ہوئی مستقل اندھیروں میں کوئی صورت خیال سے نکلی آہ رونق جو تھی مرے گھر کی عرصۂ ماہ و سال سے نکلی پہلے اک آگ کا سمندر تھا برق میرے جلال سے نکلی ڈھل گئی عمر تو ہوا معلوم آنچ سی خد و خال سے نکلی فکر تم بھی کرو نسیمؔ اپنی تازگی عرض ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہوتی ہیں لوگوں کی حاجتیں کیا کیا

جہاں میں ہوتی ہیں لوگوں کی حاجتیں کیا کیا لکھی ہیں چہروں پہ ان کے عبارتیں کیا کیا نیا زمانہ ہے ہر موڑ سے سنبھل کے نکل کھڑی ہیں راہ میں عریاں ضرورتیں کیا کیا بڑے خلوص سے ہم اجنبی سے ملتے ہیں ضرورتوں کی ضرورت ہیں چاہتیں کیا کیا تمام رشتے دکھاوے کے رشتے لگتے ہیں دلوں میں گھول رہی ...

مزید پڑھیے

اڑتی ہوئی خبر سنی سارے جہان میں

اڑتی ہوئی خبر سنی سارے جہان میں دشمن مرا چھپا ہے مرے ہی مکان میں وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھ کو خبر نہیں ہر بات ان کی ہوتی ہے میرے ہی دھیان میں ان کی نشانہ بازی کا اب دیکھیے کمال ان کا بھی تیر آ چکا میرے کمان میں ان کا گمان ہے کہ ہوں غافل خدا سے میں میں تو سدا رہی ہوں اسی کی امان ...

مزید پڑھیے

قانون تو قدرت کا ہے وہی انسان بدلتے رہتے ہیں

قانون تو قدرت کا ہے وہی انسان بدلتے رہتے ہیں یہ حرص و ہوس کے دیوانے ہر آن بدلتے رہتے ہیں پہلے تو خدا کے بندے تھے اب پیسے کے سب یہ بندے ہیں موسم کی طرح سے دنیا میں ایمان بدلتے رہتے ہیں آنکھیں بدلیں پھر دل بدلے تہذیب و تمدن بھی بدلے انجام کہاں ہوگا اس کے امکان بدلتے رہتے ہیں وعدہ ...

مزید پڑھیے

ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں نمو پزیر ہوں لیکن ترے حصار میں ہوں کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں ترے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہ گزار میں ہوں یہیں کہیں تری نظروں سے گر کے بکھروں گا میں شاخ سبز ...

مزید پڑھیے

اکیلی رات تھی چاروں طرف اندھیرا تھا

اکیلی رات تھی چاروں طرف اندھیرا تھا اور ایک پیڑ سے میرا ہی ہاتھ نکلا تھا عجیب دھن تھی کہ بڑھتے ہی جا رہے تھے قدم ہر اک طرف سے مجھے آندھیوں نے گھیرا تھا نظر تو آئے تھے ہم کو بھی پاؤں اٹھتے ہوئے پھر اس کے بعد بہت دور تک اندھیرا تھا بکھر رہے تھے اندھیرے ہمارے سر پہ مگر افق سے تا بہ ...

مزید پڑھیے

دھوپ نکلی تو بتائے گی ہے سایہ کتنا

دھوپ نکلی تو بتائے گی ہے سایہ کتنا اپنا ہی جسم ہے اپنے سے پرایا کتنا خود شناسی کے اندھیروں کی گھنی چھاؤں تلے میرے آسیب نے خود مجھ کو ڈرایا کتنا اس سے بھی ہو نہ سکا اپنی جراحت کا علاج پیار بھی اس نے کیا دل سے لگایا کتنا ہوں وہ سرمایہ جو لٹنے پہ تہی دست نہیں وقت نے میری اداسی کو ...

مزید پڑھیے

اس سے گلہ کروں کہ اسے بھول جاؤں میں

اس سے گلہ کروں کہ اسے بھول جاؤں میں وہ وقت آ پڑا ہے کہ سب کچھ گنواؤں میں کس کو دکھاؤں اپنی شب تار تار کو سایہ بھی کوئی ہو تو اسے کچھ بتاؤں میں مغرور ہو گیا ہے مجھے مجھ سے چھین کر اے کاش اس کو اس سے کبھی چھین لاؤں میں قصے سنا رہا ہے مری بے وفائی کے اس کی طرح سے خود کو کبھی آزماؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2336 سے 6203