صبح ہے پردہ ترے چہرے سے ہٹ جانے کا نام
صبح ہے پردہ ترے چہرے سے ہٹ جانے کا نام شام ہے گیسو ترے رخ پر بکھر جانے کا نام جس نے دیکھا اک نظر سرشار و بے خود ہو گیا چشم میگوں رکھ دیا لبریز پیمانے کا نام تیرے آنے سے بہار آئی ہے بزم دہر میں اور قیامت ہے ترے آ کر چلے جانے کا نام زندگی ہے اصل میں ملنے کی پیہم کشمکش موت ہے اس مرکز ...