اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں
اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں پھر بہت شور ہوا تھا مجھ میں راستے سارے ہی مانوس سے تھے اک فقط میں ہی نیا تھا مجھ میں میں بھی تصویر سا چسپاں تھا کہیں سانحہ یہ بھی ہوا تھا مجھ میں خاک اور خون میں نہلایا ہوا کب سے اک شخص پڑا تھا مجھ میں برف کی تہہ میں لرزتی ہوئی لاش ایسا منظر بھی چھپا ...