قومی زبان

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں پھر بہت شور ہوا تھا مجھ میں راستے سارے ہی مانوس سے تھے اک فقط میں ہی نیا تھا مجھ میں میں بھی تصویر سا چسپاں تھا کہیں سانحہ یہ بھی ہوا تھا مجھ میں خاک اور خون میں نہلایا ہوا کب سے اک شخص پڑا تھا مجھ میں برف کی تہہ میں لرزتی ہوئی لاش ایسا منظر بھی چھپا ...

مزید پڑھیے

کوئی آہٹ نہ کوئی ڈگر سامنے

کوئی آہٹ نہ کوئی ڈگر سامنے ایک عکس سفر سربسر سامنے آسماں پر لہو گل بکھرتا ہوا اور ابھرتا ہوا میرا سر سامنے وہ اکیلا ہزاروں سے لڑتا رہا جنگ ہوتی رہی رات بھر سامنے ننھی منی دعاؤں کا حاصل ہے کیا لٹ گیا سارا رخت سفر سامنے ٹوٹ کر سارے منظر بکھرنے لگے بے تحاشا اڑے بام و در ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کہاں دہائی دوں

کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کہاں دہائی دوں کسی کا جرم ہو اپنی تو میں صفائی دوں یہ کشت و خون کا منظر نفس نفس لیکن اسیر جاں کو بھلا کس طرح رہائی دوں میں اک صدا ہوں تو تڑپوں تری زبان کے بیچ ہوں اک خیال تو پرواز میں دکھائی دوں کبھی تو پھیلوں ان آنکھوں میں داستاں بن کر کہاں تلک لب خاموش ...

مزید پڑھیے

کبھی صنم تو کبھی وہ خدا تھا آنکھوں میں

کبھی صنم تو کبھی وہ خدا تھا آنکھوں میں کھلی جو آنکھ تو منظر جدا تھا آنکھوں میں بکھر رہے تھے زمان و مکاں میں سر کتنے کہ پچھلی رات عجب رن پڑا تھا آنکھوں میں اسی سے آئی تھی کون و مکاں کی آوازیں وہ ایک در جو سحر تک کھلا تھا آنکھوں میں گزر گیا وہ مرے دل سے سر جھکائے ہوئے پھر اس کے بعد ...

مزید پڑھیے

فیض کیا آسمان سے نکلا

فیض کیا آسمان سے نکلا جو بھی نکلا گمان سے نکلا چھپ کے مجھ سے اتر گیا مجھ میں پھر بڑی آن بان سے نکلا کبھی نکلا وہ خانۂ دل سے اور کبھی داستان سے نکلا چپ جو ٹوٹی تو اس طرح ٹوٹی جیسے شعلہ زبان سے نکلا آسماں سر پہ اور زمیں نیچے سب یہ اپنے گمان سے نکلا کتنا ڈھونڈا مگر مرا سایہ یاد کے ...

مزید پڑھیے

اس نگاہ مست سے جب وجد میں آتی ہوں میں

اس نگاہ مست سے جب وجد میں آتی ہوں میں کیف و رنگ و نور کی دنیا پہ چھا جاتی ہوں میں کیا کہوں کیا ہے محبت کا فریب خود نگر دیکھتی ہوں جس طرف خود ہی نظر آتی ہوں میں چاہتی تو ہوں کہ موجوں سے رہوں دامن کشاں کشتیٔ غم ہوں بھنور میں پھر بھی آ جاتی ہوں میں صبح تک ٹھہرا نظر آتا ہے دور ...

مزید پڑھیے

جلووں کو باریاب کئے جا رہی ہوں میں

جلووں کو باریاب کئے جا رہی ہوں میں قلب و نظر خراب کئے جا رہی ہوں میں بہکی ہوں میں لطیف جوانی کے کیف میں ہر چیز کو شراب کئے جا رہی ہوں میں کتنا بلند ہے مری تعمیر کا مذاق تاروں کو آفتاب کئے جا رہی ہوں میں کیوں میں گناہ عشق سے ڈرتی ہوں اس قدر ہستی کو کیوں عذاب کئے جا رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

خود مٹ گئی نہ پا سکی تیرے نشاں کو میں

خود مٹ گئی نہ پا سکی تیرے نشاں کو میں سمجھی تھی سہل شوق کی راہ گراں کو میں یہ آرزوئے جوش تجسس کا ہے مآل بھولا ہے کارواں مجھے اور کارواں کو میں سوز جنوں کی آگ سے اک روز پھونک دوں وہم و گماں کو جذبۂ سود و زیاں کو میں تاروں کی مست چھاؤں میں اب بھی کبھی کبھی کرتی ہوں یاد بھولی ہوئی ...

مزید پڑھیے

لرزاں میں جو روح کے پردوں میں انوار لٹائے جاتی ہوں

لرزاں میں جو روح کے پردوں میں انوار لٹائے جاتی ہوں ہستی کے ذرے ذرے کو خورشید بنائے جاتی ہوں کچھ نکھرے نکھرے گیت ہیں جو ہونٹوں سے برستے رہتے ہیں اک میٹھی میٹھی آگ ہے جو ہر سو بھڑکائے جاتی ہوں خود اپنی لے کو سنتی ہوں خوش ہوتی ہوں سر دھنتی ہوں اشعار میں ڈھال کے اشکوں کو مستی میں ...

مزید پڑھیے

تنہائی

چھا رہی ہے مہیب خاموشی بے کراں سی عجیب خاموشی وقف حرمان و یاس بیٹھی ہوں آہ کتنی اداس بیٹھی ہوں دل میں کچھ نقش جگمگاتے ہیں جس طرح خواب جھلملاتے ہیں وہ ستم کاریاں یگانوں کی سرد مہری وہ مہربانوں کی کڑوی کڑوی بری بری باتیں زہر میں وہ بجھی بجھی باتیں چند دم توڑتے ہوئے نغمے چند سائے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2337 سے 6203