قومی زبان

بہت حسیں تھی کبھی یہ دنیا مرے مطابق

بہت حسیں تھی کبھی یہ دنیا مرے مطابق مگر رہا اب نہ اس کا چہرہ مرے مطابق میں اس لیے اک درخت سے بات کر رہی ہوں رہے گا چپ یا جواب دے گا مرے مطابق ترے لکھے کو غلط نہیں کہہ رہی میں لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں نہ لکھا مرے مطابق یہاں پہ سب میرے خانوادے سے آشنا ہیں مرا تعارف نہ ہو سکے گا مرے ...

مزید پڑھیے

نفی کو یوں اثبات کرو

نفی کو یوں اثبات کرو ختم تم اپنی ذات کرو دنیا سے جب ملنے جاؤ پہلے خود سے بات کرو دن بھر میرے ساتھ رہے خود میں بسر اب رات کرو رات کی زلف سنور جائے ہجر کو گر مشاط کرو نام مرا دل پر لکھواؤ دھڑکن کو خطاط کرو مجھ پر ایسے پیار لٹاؤ ساگر پر برسات کرو بات ہے میرے بارے میں لہجے کو ...

مزید پڑھیے

چشم تر لے کے جو اس گھر سے نکل جاؤں میں

چشم تر لے کے جو اس گھر سے نکل جاؤں میں سب بدل جائے جو منظر سے نکل جاؤں میں زندگی مجھ پہ مسلط ہے کسی ڈر کی طرح کیسے جی پاؤں جو اس ڈر سے نکل جاؤں میں میں یہاں قید ہوں مورت کی طرح سنگ تراش تو اگر چاہے تو پتھر سے نکل جاؤں میں پھر تو آگے کئی ندیاں کئی چشمے ہوں گے بس شب و روز کے استھر سے ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ رہ پائے اس جہاں سے پرے

کیوں نہ رہ پائے اس جہاں سے پرے اور بھی تھے جہاں یہاں سے پرے ہم جہاں پاس تیرے آ بیٹھے تو اٹھا ہو گیا وہاں سے پرے تلخیاں اور بڑھ گئیں دل کی جب ہوئیں تلخیاں زباں سے پرے یہ جو تو میری رہ میں حائل ہے جانے کب ہوگا درمیاں سے پرے میں تو اپنے بھی آس پاس نہیں اور ہو جاؤں میں کہاں سے ...

مزید پڑھیے

نیل بہتا تھا پرندوں کی قطاریں تھیں وہاں

نیل بہتا تھا پرندوں کی قطاریں تھیں وہاں خواب سا منظر تھا کوئی آبشاریں تھیں وہاں اک عجب سی نغمگی رہتی تھی قلب و روح میں سانس کی مضراب اور دھڑکن کی تاریں تھیں وہاں خار و خس بکھرے پڑے ہیں آرزو کے شہر میں کوئی دن کا ذکر ہے رقصاں بہاریں تھیں وہاں اب تو ان آنکھوں میں کھارے پانیوں کا ...

مزید پڑھیے

یہ نیلی آنچ یا نیلم پری ہے

یہ نیلی آنچ یا نیلم پری ہے ہوا کی تان پر جو جھومتی ہے مرا کمرہ مثال دشت وحشت جہاں رم خوردہ ہرنی کھو گئی ہے اڑا پھرتا ہے پنچھی کینوس پر مصور کی عجب صورت گری ہے طلب میں قطرۂ نیساں کی بے دم سر ساحل کوئی سیپی پڑی ہے وہاں تھا آج گل کھلنے کا امکاں جہاں کل رات ہی بجلی گری ہے جہاں پر ...

مزید پڑھیے

ستاروں کے نگر میں

ستاروں کے نگر جانے کا اکثر سوچتے ہیں ہم تمہیں اپنا بنانے کا بھی اکثر سوچتے ہیں ہم افق کے پار جا کر چاند تارے ڈھونڈ لانے کی ہماری آرزو دیکھو چلو کچھ دیر خود کو ہم تمہارے روبرو کر دیں ستاروں کے نگر جانے کی خواہش ملتوی کر دیں کہ ہم جب تم کو اپنے سامنے پائیں تو سارے بھیگے منظر دھیرے ...

مزید پڑھیے

بحر میں دائرے تو ہوں گے ہی

بحر میں دائرے تو ہوں گے ہی پیار میں وسوسے تو ہوں گے ہی خواب تھا اس کی شوخ آنکھوں کا خواب کے زاویے تو ہوں گے ہی روز تم پھول بن میں جاتے تھے لازماً گل کھلے تو ہوں گے ہی یہ کوئی عشق تو نہیں ہے حضور جاب ہے مسئلے تو ہوں گے ہی دل ہے ویراں تو رہ نہیں سکتا درد اس میں بسے تو ہوں گے ہی یہ ...

مزید پڑھیے

چپ ہی رہوں یا راز ترے سب کھولوں میں

چپ ہی رہوں یا راز ترے سب کھولوں میں اے دنیا کچھ تیرے بارے بولوں میں سوکھے جھیل تو ایک مکان بنانا ہے پربت ہٹے تو اک دروازہ کھولوں میں آج کچھ ایسی جی میں بات سمائی ہے پہلے بولوں بعد میں اس کو تولوں میں یوں صحرا میں سائے کی تدبیر کروں پیلی دھوپ میں آج سیاہی گھولوں میں بنجر دل ...

مزید پڑھیے

پہلے جن سانچوں سے ہم کتراتے ہیں

پہلے جن سانچوں سے ہم کتراتے ہیں وقت کے ساتھ انہی میں ڈھلتے جاتے ہیں ایک ہی زردی کیوں موسم پر چھائی ہے ساتوں رنگ پلٹ کر کیوں نہیں آتے ہیں ہم سے تو بس ایک مسافت ساتھ نبھا کون ہیں جو عمروں کی قسمیں کھاتے ہیں دن بھر اس دیوار سے لگ کے روئیں گے شب بھر جس کو دل کا حال سناتے ہیں مستقبل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2183 سے 6203