قومی زبان

والعصر زمانہ مرے مطلب کا نہیں ہے

والعصر زمانہ مرے مطلب کا نہیں ہے یہ آئنہ خانہ مرے مطلب کا نہیں ہے کہتی ہیں نہ لا پائیں گی یہ تاب نظارہ آنکھوں کا بہانہ مرے مطلب کا نہیں ہے آئی ہوں ترے واسطے جنت سے زمیں پر ورنہ یہ ٹھکانہ مرے مطلب کا نہیں ہے اس میں ہے مرا ثانوی کردار لکهاری تیرا یہ فسانہ مرے مطلب کا نہیں ہے اک ...

مزید پڑھیے

وہی تھے جو اپنی جستجو میں کھرے نہیں تھے

وہی تھے جو اپنی جستجو میں کھرے نہیں تھے وگرنہ ہم ان کی دسترس سے پرے نہیں تھے تبھی وہ سمجھے کہ ہم کھلونے نہیں ہیں جب ہم وہاں سے ان کو ملے جہاں پر دھرے نہیں تھے درخت پھر سے ہرا پھلوں سے بھرا ہوا ہے مگر وہ پتے بہار میں جو ہرے نہیں تھے اس ایک لمحے کا رنگ عمروں پہ چھا گیا ہے وہ ایک ...

مزید پڑھیے

وہ جیسے دنیا چلا رہا ہے

وہ جیسے دنیا چلا رہا ہے فقط کہے کو نبھا رہا ہے خدا کا جانے ہے کیا ارادہ جو پھر سے ہم کو ملا رہا ہے شروع میں کچھ جھجھک تو ہوگی طویل عرصہ خفا رہا ہے رچا کے سانسوں میں میری غزلیں وہ بانسری پر سنا رہا ہے نہیں میں اس سے خفا نہیں ہوں جو شخص مجھ کو منا رہا ہے تجھے محبت نے ڈس لیا نا یہ ...

مزید پڑھیے

چاند کی چاہت میں تنہا ترسے گی کالی رات

چاند کی چاہت میں تنہا ترسے گی کالی رات یاد کے باسی پھولوں سے مہکے گی کالی رات راس رچا کر خوابوں سے پھر لاکھ رہیں خاموش سوئی جاگی آنکھوں سے جھلکے گی کالی رات کب یہ چاہا راتوں میں صبحوں سا نور گھلے لیکن کب تک صبحوں پر پھیلے گی کالی رات تیری یاد کو روکا میرے دل نے دامن کھینچ اک ...

مزید پڑھیے

کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ

کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ جلنے لگے چراغ ہواؤں کے ساتھ ساتھ نکلے بہار اوڑھ کے کچھ خوش نما بدن خوشبو بھی ہم سفر ہے قباؤں کے ساتھ ساتھ چہرہ کشا ہوا ہے کوئی گیسوؤں کے بیچ لگنے لگی ہے دھوپ بھی چھاؤں کے ساتھ ساتھ شہروں سے مختلف ہیں یہ گاؤں کی لڑکیاں بھرتی ہیں گاگریں بھی ...

مزید پڑھیے

گھر بلاتا ہے کبھی شوق سفر کھینچتا ہے

گھر بلاتا ہے کبھی شوق سفر کھینچتا ہے دوڑ پڑتا ہوں مجھے جو بھی جدھر کھینچتا ہے اس طرح کھینچتی ہیں مجھ کو کسی کی آنکھیں جیسے طوفان میں کشتی کو بھنور کھینچتا ہے کیسے ممکن ہے بھلا چاند نہ دیکھے کوئی حسن کامل ہو تو پھر خود ہی نظر کھینچتا ہے شام ڈھلتے ہی تیری سمت چلا آتا ہوں جیسے ...

مزید پڑھیے

قریب تھا کہ حرارت سے جل اٹھا ہوتا

قریب تھا کہ حرارت سے جل اٹھا ہوتا دیا ہتھیلی پہ کچھ وقت اگر رکا ہوتا بنایا جاتا اگر ٹہنیوں سے پنجرے کو قفس میں کچھ تو پرندوں کو آسرا ہوتا تمہارے جوڑے میں ہے اس لیے سلامت ہے یہ پھول شاخ پہ پژمردہ ہو گیا ہوتا خدا کا شکر کہ نسبت قلم سے ہے ورنہ ہمارے ہاتھ بھی بارود لگ چکا ...

مزید پڑھیے

نظم

مرے تخیل کو بولنے کا ہنر نہیں تھا حروف جتنے خرد کی فرہنگ میں پڑے تھے میں ان کو چننے کے فن سے واقف تھا اور ترتیب جانتا تھا میں سب تراکیب جانتا تھا مگر کمی تھی کمی بھی ایسی کہ جس سے الفاظ نیم مردہ سے لگ رہے تھے میں سارے گر آزما کے جب تھک گیا تو سگریٹ جلا لیا تھا اور آنکھیں موندے ترے ...

مزید پڑھیے

اہل وفا وفا کا ثمر مانگتے نہیں

اہل وفا وفا کا ثمر مانگتے نہیں دل مانگتے ہیں لعل و گہر مانگتے نہیں اپنا وقار اپنی خودی جن کو ہے عزیز وہ ہر کسی سے لطف و نظر مانگتے نہیں اپنے جمال نور کا کچھ عکس دیجئے ہم آپ سے تو شمس و قمر مانگتے نہیں کرتے ہیں بالمشافہ ستاروں سے گفتگو کرنوں کی بھیک اہل نظر مانگتے نہیں ان کا ...

مزید پڑھیے

محافظ ہو چمن کے تم تو پھر فکر و نظر رکھ لو

محافظ ہو چمن کے تم تو پھر فکر و نظر رکھ لو لہو کی گر ضرورت ہو تو کچھ خون جگر رکھ لو حصول آرزو میں منزلیں دشوار ہوتی ہیں اگر صحرا سے گزرو تو سمندر کی خبر رکھ لو تن نازک اور اس پہ یوں خرام ناز سے چلنا یہ شہر سنگ ہے پتھر سے بچنے کا ہنر رکھ لو کسی کی ذات پہ انگلی اٹھانے سے ذرا پہلے ذرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2184 سے 6203