قومی زبان

زاہد تری نگاہ خدا آشنا نہیں

زاہد تری نگاہ خدا آشنا نہیں تو جانتا ضرور ہے پہچانتا نہیں جنگل کے پھول سے ہے عبارت مرا نصیب وہ ناؤ ہوں کہ جس کا کوئی ناخدا نہیں کیا جانے کیسے شہر خموشاں کے لوگ ہیں آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں حیرت ہے جس کا تاج محل پیش لفظ ہے لوگوں نے اس کتاب کو اب تک پڑھا نہیں لے آئی ہے ...

مزید پڑھیے

ہم ان سے چھوٹ کے یوں زندگی کے ساتھ رہے

ہم ان سے چھوٹ کے یوں زندگی کے ساتھ رہے کہ جیسے کوئی کسی اجنبی کے ساتھ رہے بڑے مزے کی ہے دونوں کی داستان حیات ہم ان کے ساتھ رہے وہ خودی کے ساتھ رہے اس انجمن میں جہاں سب حریف الفت تھے ہم اہل عشق بڑی بے بسی کے ساتھ رہے جہاں جہاں میں گیا وہ وہاں وہاں مرے ساتھ رہے ضرور مگر بے رخی کے ...

مزید پڑھیے

یہ سمجھنے کی کس کو فرصت ہے

یہ سمجھنے کی کس کو فرصت ہے زندگی موت کی امانت ہے ان کو پایا تو یہ ہوا محسوس جیسے مجھ کو مری ضرورت ہے اتنے جلوے قریب ہیں اس کے جتنی جس کی نظر میں وسعت ہے آج کل ہم ہیں اور وہ منزل جس میں ہر ہر قدم پہ زحمت ہے دوسروں کے لئے فنا ہو جاؤ یہی معراج آدمیت ہے اس تجاہل سے پوچھنے کے ...

مزید پڑھیے

دولت درد کمانے کے لئے زندہ ہیں

دولت درد کمانے کے لئے زندہ ہیں لطف جینے کا اٹھانے کے لئے زندہ ہیں فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لئے جیتے ہو اور ہم سارے زمانے کے لئے زندہ ہیں ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک ہم نئی زندگی پانے کے لئے زندہ ہیں وہ محافظ ہیں جنہیں تم نے کمانیں دی ہیں بے کماں صرف نشانے کے لئے زندہ ...

مزید پڑھیے

تری نظر کے فسوں کا اثر دکھائی دیا

تری نظر کے فسوں کا اثر دکھائی دیا جدھر نہیں تھا زمانہ ادھر دکھائی دیا ہمارا ہم سے تعارف کرا دیا اس نے کبھی کہیں جو کوئی دیدہ ور دکھائی دیا ہمیں کسی نے کڑی دھوپ میں پناہ نہ دی کوئی شجر نہ سر رہ گزر دکھائی دیا جو لوگ بیٹھ گئے تھک کے راہ میں ان کو قریب آ کے بہت دور گھر دکھائی ...

مزید پڑھیے

درد سے اگر رشتہ دوست کا نکل آئے

درد سے اگر رشتہ دوست کا نکل آئے غم میں مسکرانے کا راستہ نکل آئے سچ سے اک تعلق ہے ہر حسین کاوش کا ہر کہانی ممکن ہے واقعہ نکل آئے کوٹھیوں میں نکلے گا آدمی بھی مشکل سے جھونپڑوں میں ممکن ہے دیوتا نکل آئے وقت نے بدل ڈالا زندگی کی قدروں کو دوست کیا تھے کل اپنے آج کیا نکل آئے سوچنے ...

مزید پڑھیے

وہ ضد پے رہا ہے جھکانے پے حسنیٰ

وہ ضد پے رہا ہے جھکانے پے حسنیٰ ہمیں تو رہے ہیں نشانے پے حسنیٰ نگاہوں کا تیرے قہر ہی قہر ہے ذرا تو رحم کر زمانے پہ حسنیٰ جنہیں یاد کرکے صدیاں گنوا دی لگے ہیں ہمیں وہ بھلانے پہ حسنیٰ پتا چاہتا ہے محض چند سانسیں ہیں بیٹوں کی نظریں خزانے پہ حسنیٰ محبت کی راہوں میں سب کچھ مٹا ...

مزید پڑھیے

سارے ہی زندگی کے فسانے بدل گئے

سارے ہی زندگی کے فسانے بدل گئے موسم کی طرح دوست پرانے بدل گئے سسکا ہے گھر کی چھت پہ پرندہ بھی رات بھر کھائے جہاں نوالے گھرانے بدل گئے شانوں پہ جس پتا نے دکھایا اسے جہاں بٹیا بڑی ہوئی تو ٹھکانے بدل گئے پینسٹھ کی عمر میں بھی چڑھی ہیں جوانیاں آب و ہوا کے ساتھ سیانے بدل گئے نکلی ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر جنت سی گلیاں گاؤں سے آنا پڑا

چھوڑ کر جنت سی گلیاں گاؤں سے آنا پڑا ایک روٹی کے لیے ہی اتنا جرمانہ پڑا راس آتی تھی نہ ماں کی روٹیاں گھی سے لگی ہائے اس پردیش میں پھر بھوکا سو جانا پڑا سا رےگا ماپا دھانی سا سانی دھا پا ماگ رے ساز گر روٹھے جو مطرب سرگمیں گانا پڑا روح دے گی ساتھ تیرا جسم بس کار ہوس وہ سمجھتا ہی ...

مزید پڑھیے

اٹھی اس روئے روشن سے نقاب آہستہ آہستہ

اٹھی اس روئے روشن سے نقاب آہستہ آہستہ سوا نیزے پہ آیا آفتاب آہستہ آہستہ کوئی پی کر چلے جیسے شراب آہستہ آہستہ یوں ہی آتا ہے وہ مست شباب آہستہ آہستہ جوانی ان میں پیدا بے نیازی کرتی جاتی ہے یہ کیسا ہو رہا ہے انقلاب آہستہ آہستہ مرتب ہو رہا ہے اس طرح افسانۂ ہستی بھرا جاتا ہے جیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2163 سے 6203