جو یہ کہوں تو قناعت پہ حرف آتا ہے
جو یہ کہوں تو قناعت پہ حرف آتا ہے چراغ خود نہیں جلتا جلایا جاتا ہے وہ آدمی جو زمانے سے دل لگاتا ہے قدم قدم پہ فریب حیات کھاتا ہے حیات عشق میں وہ منزلیں بھی آتی ہیں جہاں پہ مصلحتاً مسکرایا جاتا ہے چمن میں خار کی صورت اگر رہا بھی تو کیا وہ پھولبن جو چمن کو چمن بناتا ہے کلی کی دل ...