قومی زبان

اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا

اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا تو پھر غبار طبیعت کہاں سے گزرے گا ہمارے نقش قدم راہ میں بنائے رکھو ابھی زمانہ اسی کہکشاں سے گزرے گا ابھی تو بجلیاں ٹوٹیں گی خرمن دل پر ابھی تو قافلہ شہر بتاں سے گزرے گا نصیب ہوں گی اسے سرفرازیاں کیا کیا جو سر جھکا کے ترے آستاں سے گزرے گا اسی ...

مزید پڑھیے

دلوں میں خار لبوں پر گلہ ملے گا مجھے

دلوں میں خار لبوں پر گلہ ملے گا مجھے خفا رہے گا زمانہ تو کیا ملے گا مجھے یہ کیا خبر تھی ملاقات ان سے ہوگی اگر نظر سے تا بہ نظر فاصلہ ملے گا مجھے طلسم تیرگئی شب کہیں تو ٹوٹے گا کوئی چراغ کہیں تو جلا ملے گا مجھے بہار باغ تمنا کوئی تو دیکھے گا کبھی تو دل میں کوئی جھانکتا ملے گا ...

مزید پڑھیے

بلا سے ہو کہ علاج غم حیات نہ ہو

بلا سے ہو کہ علاج غم حیات نہ ہو مری نظر میں مگر صرف میری ذات نہ ہو نظر میں دن کے اندھیرے رہیں تو شمع گرو حیات شمع فروزاں کی ایک رات نہ ہو یہی مزاج ہمیشہ سے ہے محبت کا میں ہار جاؤں یہ بازی کسی کو مات نہ ہو جہاں خلاف ہے لیکن یہ غیر ممکن ہے تباہیوں میں ہماری ہمارا ہات نہ ہو مزہ تو ...

مزید پڑھیے

وہ برہم ہوں تو ان کا ہر قدم محسوس ہوتا ہے

وہ برہم ہوں تو ان کا ہر قدم محسوس ہوتا ہے جفا محسوس ہوتی ہے کرم محسوس ہوتا ہے بہت ویران ہے لیکن وہ جب تشریف لاتے ہیں یہی غربت کدہ رشک ارم محسوس ہوتا ہے ہماری جستجو پر بد گمانی ہے یہاں سب کو یہی کوچہ ہمیں کوئے صنم محسوس ہوتا ہے یہ مانا راہرو منزل سے کوسوں دور ہے اپنی مگر یہ فاصلہ ...

مزید پڑھیے

چاقو سے محبت کی رگیں کاٹ رہا ہے

چاقو سے محبت کی رگیں کاٹ رہا ہے سنتے ہیں کہ وہ عشق میں ناکام ہوا ہے پیچھے ترے اے شوخ نظر حسن کے پیکر اک شخص نہیں سارا زمانہ ہی پڑا ہے یاروں نے مرے آہ کہیں کا نہیں چھوڑا ٹھوکر جو لگی مجھ کو تو اندازہ ہوا ہے وہ حال جو انگریزوں نے بھارت کا کیا تھا کچھ حال وہی عشق نے اب میرا کیا ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا

محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا ہر ایک لمحہ عذاب ہوگا یہ طے کہاں تھا یہ طے ہوا تھا وفا کی شمع جلا کرے گی اندھیرا ہم پہ عتاب ہوگا یہ طے کہاں تھا خزاں نہ آئے گی زندگی میں کبھی ہماری اداس بیلا گلاب ہوگا یہ طے کہاں تھا ہماری نظریں سوال بن کر اٹھا کریں گی سکوت لب پر جواب ہوگا یہ ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا کہ جب جب آہٹوں پہ دل دھڑکتا ہے

اسے کہنا کہ جب جب آہٹوں پہ دل دھڑکتا ہے اسے کہنا جہاں سارا اسی کو پیار کہتا ہے اسے کہنا زمانے سے بغاوت کر نہیں سکتی اسے کہنا مگر ترک وفا سے ڈر بھی لگتا ہے اسے کہنا دعاؤں میں خدا سے تم کو مانگا ہے اسے کہنا خدا دل کی دعائیں خوب سنتا ہے اسے کہنا کہ صدیاں ہو گئیں بچھڑے ہوئے تم سے اسے ...

مزید پڑھیے

پریشاں ہو کے اپنی زندگی سے

پریشاں ہو کے اپنی زندگی سے کنارا کر لیا تھا ہر کسی سے ہمیشہ در گزر کرتے رہیں کیا تمہاری بے رخی کو ہم خوشی سے دکھا کر دل ہمارا کیا ملے گا بتاؤ پوچھتی ہوں عاجزی سے مراسم اور گہرے ہو گئے ہیں سنا ہے آپ کے اک اجنبی سے کہاں ہے اور کیسا ہے ابھی وہ نگاہیں پوچھتی ہیں ہر کسی سے سمندر ...

مزید پڑھیے

اس بزم سے پلٹے ہیں تو غافل سے ملے ہیں

اس بزم سے پلٹے ہیں تو غافل سے ملے ہیں اکثر تو ہم اپنے کو بھی مشکل سے ملے ہیں انسان کو ہمدردیٔ انسان کے احساس راحت سے نہیں کرب کی محفل سے ملے ہیں یہ وقت کی خوبی ہے کہ فن کار سے فن کار کس دل سے ملا کرتے تھے کس دل سے ملے ہیں دریا نے ترس کھا کے ڈبویا نہیں جس کو طوفان اسی ناؤ کو ساحل سے ...

مزید پڑھیے

میری سحر سحر نہ مری شام شام ہے

میری سحر سحر نہ مری شام شام ہے میں وہ کتاب ہوں جو ابھی ناتمام ہے دنیا ہے یہ یہاں کا عجب انتظام ہے غم کو قیام ہے نہ خوشی کو قیام ہے تھوڑا سا جستجوئے نظر تیرا کام ہے جلوہ کسی کا عام نہ ہونے پہ عام ہے ان کی نظر میں اپنی جگہ پا رہے ہیں ہم شاید اسی کا نام فریب تمام ہے جس میں شریک ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2162 سے 6203