اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا
اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا تو پھر غبار طبیعت کہاں سے گزرے گا ہمارے نقش قدم راہ میں بنائے رکھو ابھی زمانہ اسی کہکشاں سے گزرے گا ابھی تو بجلیاں ٹوٹیں گی خرمن دل پر ابھی تو قافلہ شہر بتاں سے گزرے گا نصیب ہوں گی اسے سرفرازیاں کیا کیا جو سر جھکا کے ترے آستاں سے گزرے گا اسی ...