قومی زبان

کہاں ہو کون ہو کیا ہو ہمیں بتاؤ تو

کہاں ہو کون ہو کیا ہو ہمیں بتاؤ تو نکل کے پردۂ دیر و حرم سے آؤ تو اندھیرا پھر نہ رہے گا دیے جلاؤ تو رخ حیات سے اک اک نقاب اٹھاؤ تو میں اپنے جذب محبت کا امتحاں لے لوں کچھ اور میری نگاہوں سے دور جاؤ تو زمانہ ہو گیا چھایا ہے گلستاں پہ جمود چمن پرستو نیا گل کوئی کھلاؤ تو اجالے سینۂ ...

مزید پڑھیے

صدا رہی ہو بھلے کتنی بے قرار اس کی

صدا رہی ہو بھلے کتنی بے قرار اس کی مجھی تک آ کے رکی ہے صدا پکار اس کی چمن گوارہ کرے عمر خوش گواری میں کھلا رہی ہے جو گل شاخ نو بہار اس کی گزرتا ہے تو عجب خوشبوئیں بکھیرتا ہے قدم قدم پہ مہکتی ہے رہ گزار اس کی تھمائے تھمتا نہیں درد میرے سینہ کا رکائے رکتی نہیں آنسوؤں کی دھار اس ...

مزید پڑھیے

یہ مجھے کیسا گماں ہے کون سی تشکیک ہے

یہ مجھے کیسا گماں ہے کون سی تشکیک ہے دور بھی ہو جائے تو لگتا ہے تو نزدیک ہے میں تو تیرے بولنے پر خوش ہوں خود پر فخر کر تو مری چپ سے دکھی ہے یہ مری تضحیک ہے سب کو دینے والے اب تو حق رسانی کر مری ورنہ تب تک جو ملے گا میں کہوں گا بھیک ہے دیکھ میری چشم بد کا تیرگی سے اختلاط دیکھ میری ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں اک صدا ہوں میں

لوگ کہتے ہیں اک صدا ہوں میں خیر خود ہی میں گونجتا ہوں میں آنکھ جیسے کئی دریچہ ہے اور اندر سے جھانکتا ہوں میں تو نے چاہا تھا گھیر لے مجھ کو دیکھ باہوں میں آ گیا ہوں میں اپنے سائے سے پوچھ لیتا ہوں کیا ترے ساتھ چل رہا ہوں میں تیری باتوں میں ہو گیا ہوں گم اپنی آواز کھو چکا ہوں ...

مزید پڑھیے

مرا چہرہ ہی الہامی نہیں تھا

مرا چہرہ ہی الہامی نہیں تھا کے آنکھیں تھیں مگر پانی نہیں تھا نگاہیں بس تمہارے ضبط پہ تھیں میں ورنہ اس قدر ضدی نہیں تھا کسی دستک پہ میری نیند ٹوٹی مگر میں سو گیا دل ہی نہیں تھا سر دیوار چیخیں چیختی تھیں پس دیوار کوئی بھی نہیں تھا جلن یہ کہہ رہی تھی جسم میرا تمہارے لمس سے خالی ...

مزید پڑھیے

اک رنج دل کے جس سے سوا چاہتا نہیں

اک رنج دل کے جس سے سوا چاہتا نہیں کچھ بھی ہو پھر میں اس کی جگہ چاہتا نہیں اس کو بھی میں طلب ہوں مگر مجھ سے کچھ جدا کوئی بھی مجھ کو میری طرح چاہتا نہیں اکتا چکا ہوں روح کی لا فانیت سے پر وہ جسم ہوں کے راہ فنا چاہتا نہیں کوئی بھی تیرے زخم سی تاثیر کیسے دے لیکن میں اس کا اور مزہ ...

مزید پڑھیے

گڈ نائٹ

رات کا وقت ہے کوئی آہٹ نہ کر بات جو بھی ہو من میں وہ من میں ہی رکھ بول دینے سے تکلیف گھٹتی نہیں بلکہ بٹ جاتی ہے اور بڑھ جاتی ہے رات کے وقت تو چپ ہی رہنا مناسب ہے کہنا نہیں ایک بھی بات مجھ پر جو بھاری پڑے کوئی بھی بات جو مجھ کو سونے نہ دے اور سن بات سن میرے سن لینے سے یہ پریشانیاں حل نہ ...

مزید پڑھیے

جو لب پر تری داستاں رکھ رہے ہیں

جو لب پر تری داستاں رکھ رہے ہیں چراغوں کی لو پر زباں رکھ رہے ہیں ہمیں لوگ کہتے ہیں غدار یارو کہاں کی خبر ہے کہاں رکھ رہے ہیں وہ کیا خاک پہنچیں گے اونچائیوں پر زمینوں پہ جو آسماں رکھ رہے ہیں ہمیں واپسی کا یقیں ہے تبھی تو کنارے پہ ہم کشتیاں رکھ رہے ہیں دیا بن کے جلتا ہوں میں جن ...

مزید پڑھیے

کسی کی بے وفائی سے کسی کو ٹھیس لگتی ہے

کسی کی بے وفائی سے کسی کو ٹھیس لگتی ہے یقیناً زندگی سے زندگی کو ٹھیس لگتی ہے ہمارا کیا ہے ہم اک جام ہی پر صبر کر لیں گے مگر ساقی تری دریا دلی کو ٹھیس لگتی ہے میں داغ دل سے دنیا کو منور کر تو سکتا ہوں مگر اے چاند تیری چاندنی کو ٹھیس لگتی ہے عجب دستور دنیا ہے کہ جب آنسو بہاتا ...

مزید پڑھیے

یوں ہی تو نہیں ترک کے امکان ہوئے ہیں

یوں ہی تو نہیں ترک کے امکان ہوئے ہیں کچھ جان کے ہی تجھ سے ہم انجان ہوئے ہیں ہم تیرے جتانے سے ہیں غمگین وگرنہ ہم پر تو کئی مرتبہ احسان ہوئے ہیں آزاد پرندوں کی طرف دیکھ رہا ہوں اس قید سے کیا کیا نہیں نقصان ہوئے ہیں ہم تلخ ہوئے خود سے کئی روز بلا وجہ تب جا کے ہر اک شخص پہ آسان ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2102 سے 6203