کہاں ہو کون ہو کیا ہو ہمیں بتاؤ تو
کہاں ہو کون ہو کیا ہو ہمیں بتاؤ تو نکل کے پردۂ دیر و حرم سے آؤ تو اندھیرا پھر نہ رہے گا دیے جلاؤ تو رخ حیات سے اک اک نقاب اٹھاؤ تو میں اپنے جذب محبت کا امتحاں لے لوں کچھ اور میری نگاہوں سے دور جاؤ تو زمانہ ہو گیا چھایا ہے گلستاں پہ جمود چمن پرستو نیا گل کوئی کھلاؤ تو اجالے سینۂ ...