آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم
آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی یاد تو ہوں گے تجھے ...