قومی زبان

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی یاد تو ہوں گے تجھے ...

مزید پڑھیے

وہ اپنے شہر فراغت سے کم نکلتا ہے

وہ اپنے شہر فراغت سے کم نکلتا ہے نکل بھی آئے تو فرصت سے کم نکلتا ہے میں خانقاہ کے باہر کھڑا ہوں مدت سے یہاں بھی کام عقیدت سے کم نکلتا ہے فلک کی سیر کے پیغام آتے رہتے ہیں بدن ہی خاک کی دہشت سے کم نکلتا ہے سنبھل سنبھل کے تو چلتا ہے وہ ستارہ بھی تمہاری جیسی نزاکت سے کم نکلتا ہے میں ...

مزید پڑھیے

جبر اور صبر بار ہوتا ہے

جبر اور صبر بار ہوتا ہے دل پہ کب اختیار ہوتا ہے وہ زمانے کہ خار تک مہکیں یادگار بہار ہوتا ہے رات اور دن کی کوئی قید نہیں آپ کا انتظار ہوتا ہے بند کرتا ہوں جب بھی میں آنکھیں سامنے روئے یار ہوتا ہے اہل گلشن کو کیا خزاں کو بھی انتظار بہار ہوتا ہے جی رہا ہوں بس اس نظریے پر حاصل ...

مزید پڑھیے

مسکراتے تھے جو میرا چاک داماں دیکھ کر

مسکراتے تھے جو میرا چاک داماں دیکھ کر آج شرمندہ ہیں وہ اپنا گریباں دیکھ کر آرزوئے دید دل کی دل میں آخر رہ گئی محو حیرت ہو گیا تصویر جاناں دیکھ کر کس قدر بدلی ہے دنیا نے محبت کی روش پھیر لیتا ہے نظر انساں کو انساں دیکھ کر آئے تھے تسکین دینے وہ دل بیتاب کو خود پریشاں ہو گئے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

یہ جتنے پرندے اڑانوں میں ہیں

یہ جتنے پرندے اڑانوں میں ہیں مرے تیر کے سب نشانوں میں ہیں چھتیں آسماں چھو رہی ہیں مگر بڑی پٹیاں ان مکانوں میں ہیں ہے بھائی سے بھائی بھی نا آشنا یہ رسمیں بڑے خاندانوں میں ہیں کتابیں جنہیں دے رہیں ہیں صدا وہ بچے ابھی کارخانوں میں ہیں

مزید پڑھیے

کہیں بھی وفا کی نشانی نہیں ہے

کہیں بھی وفا کی نشانی نہیں ہے یزیدوں کی بستی ہے پانی نہیں ہے جو تجھ سے بچھڑ کر جئے جا رہے ہیں وہ اک قرض ہے زندگانی نہیں ہے مری ہمتوں کو ڈبونا ہے مشکل سمندر میں اب اتنا پانی نہیں ہے ہمیشہ ہمیشہ جواں ہی رہے گا مرا دل ہے تیری جوانی نہیں ہے ذرا غور سے سنئے حالات میرے فسانہ نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

دل ہی نہیں تو دل کے سہاروں کو کیا کروں

دل ہی نہیں تو دل کے سہاروں کو کیا کروں جب پاس تم نہیں تو بہاروں کو کیا کروں جلووں سے جس کے چاند ستاروں میں تھی ضیا اب وہ حسیں نہیں تو ستاروں کو کیا کروں تصویر اور تصور جاناں یہ سب فریب میں ان سے دور ان کے نظاروں کو کیا کروں گو جنت نگاہ ہوں فردوس رنگ ہوں گزری ہوئی حسین بہاروں کو ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر اور جلتا ہوا چھوڑنا

اپنا گھر اور جلتا ہوا چھوڑنا ہم نے سیکھا نہیں حوصلہ چھوڑنا سب مٹا دینا جب خط مرا چھوڑنا صرف کاغذ پہ لفظ وفا چھوڑنا ڈھونڈنے کا مزہ ختم ہو جائے گا اپنے خط میں نہ اپنا پتا چھوڑنا کس کی آمد تھی جب آندھیوں نے کہا راستہ دیکھ کر راستہ چھوڑنا اس طرح جل چکی ہیں کئی بستیاں آندھیوں میں ...

مزید پڑھیے

دل اکیلا ہے بے قراری ہے

دل اکیلا ہے بے قراری ہے اور ادھر کائنات ساری ہے لالہ و گل یہ چاند یہ تارے ایک ایک شے یہاں تمہاری ہے تم نے کیسی نظر سے دیکھ لیا آج تک دل پہ کیف طاری ہے جو کبھی صبح تک پہنچ نہ سکی ہم نے ایسی بھی شب گزاری ہے پھول بھی ہیں چمن میں کانٹے بھی اپنی ہر چیز ہم کو پیاری ہے یہ تو گل کی ہنسی ...

مزید پڑھیے

نظر آئیں کیا میرے پیکر میں آنکھیں

نظر آئیں کیا میرے پیکر میں آنکھیں دبی رہ گئیں غم کے بستر میں آنکھیں تمہاری نگاہوں میں جھانکا ہے میں نے کہ ڈوبی ہوئی ہیں سمندر میں آنکھیں تمہیں ڈھونڈ لینا تو مشکل نہیں تھا اگر ہوتیں میرے مقدر میں آنکھیں یہ کیا راز ہے تو ہی سمجھا دے ساقی ہیں آنکھوں میں ساغر کہ ساغر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2101 سے 6203