قومی زبان

اپنی غیرت کے علاوہ کہیں دیکھے نہ گئے

اپنی غیرت کے علاوہ کہیں دیکھے نہ گئے خود سے نکلے تھے مگر غیر کے پیچھے نہ گئے تم کو افسوس تمہیں ٹھیک بنایا نہ گیا اور ایک ہم کے ابھی چاک‌ پہ رکھے نہ گئے اک ستم یہ کے ہمیں وصل میں آیا نہ سکوں اک ستم یہ کے ترے ہجر بھی دیکھے نہ گئے سنگ اس کے تو محبت میں سلیقے سے کٹی بعد اس کے بھی بدن ...

مزید پڑھیے

اڑنے کی ضد تو چھوڑ ہوا کی ہوس نہیں

اڑنے کی ضد تو چھوڑ ہوا کی ہوس نہیں ہم دو پرندے عمر سے اہل قفس نہیں تیرے بدن کے تاب سے ہے درمیاں امس لیکن تجھے جدا کروں ایسی امس نہیں ہم لا مکاں ہیں کیا جو ترے در پہ ہیں کھڑے اور اس قدر عذاب میں بھی ٹس سے مس نہیں ایسی سیاہ رات کے نیندوں سے خوف ہو ایسا سفید خواب کے آنکھوں پہ بس ...

مزید پڑھیے

مری تاریکیوں سے بھاگتا میں

مری تاریکیوں سے بھاگتا میں تمہاری روشنی سے آ لگا میں دیے جیسا بدن ڈھانپے ہوئے تھا ہوا ہونے کا دم بھرتا ہوا میں ہزاروں پیڑ ہیں اس دشت میں اور ہزاروں میں کہیں تنہا کھڑا میں بدن ہوں روح کے اس دائرے میں اور اپنی روح کا ہوں دائرہ میں ہوا میں جذب پانی سوکھ لوں گا تمہاری خاک سے ...

مزید پڑھیے

اے خدائے وہم میں تھک گیا یہ نظام سوچتے سوچتے

اے خدائے وہم میں تھک گیا یہ نظام سوچتے سوچتے تری راہ دیکھتے دیکھتے ترا نام سوچتے سوچتے تو خیال ہے کہ سرائے ہے جہاں آ گیا تو میں بس گیا مجھے رہ گئے مرے جسم کے در و بام سوچتے سوچتے نہ یہاں کا ہوں نہ وہاں کا ہوں تو کہاں کا ہوں مجھے یہ بتا یہ میں کس مقام پہ آ گیا وہ مقام سوچتے ...

مزید پڑھیے

ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے پتہ نہیں ہے (ردیف .. ن)

ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے پتہ نہیں ہے سنا ہے محنت کا فلسفہ ہے پتہ نہیں ہے تو اپنی دنیا سے میری دنیا بسار بیٹھا یا اب بھی مجھ میں ہی مبتلا ہے پتہ نہیں ہے بتا کہ عورت کے سب مسائل کا حل ہے آنسو یا اس کا آنسو ہی مسئلہ ہے پتہ نہیں ہے پتہ نہیں ہے کہ ہم کو دراصل کیا پتہ ہے کہ ہم کو دراصل ...

مزید پڑھیے

اڑانیں لے اڑیں شہ پر ہمارے

اڑانیں لے اڑیں شہ پر ہمارے محاذ عشق ہے اور سر ہمارے برائے ضد ہمیں تعمیر کرکے بہت پچھتائے کوزہ گر ہمارے بدن چھو کر عدو کا لوٹ آئے ہمیں سے آ لگے پتھر ہمارے رہائی مل گئی تھی ہم کو لیکن اکھاڑے جا چکے تھے پر ہمارے پڑے ہیں ساحلوں پہ ریت ہو کر سمندر کھا گیا گوہر ہمارے تمہارے آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

روح تک آ کہ مجھے اس کا سہارا ہے بہت

روح تک آ کہ مجھے اس کا سہارا ہے بہت جسم مت چھیڑ مجھے جسم نے مارا ہے بہت چاند کی کس کو طلب ہے کہ یہاں تاریکی اس قدر ہے کہ مجھے ایک ستارہ ہے بہت میری جانب سے صدا اور صدا اور صدا اس کی جانب سے فقط ایک اشارہ ہے بہت میں ہوں خوابوں کی ہوا تو ہے حقیقت کا چراغ پاس ہوں دونوں تو اس میں بھی ...

مزید پڑھیے

زمیں پر معجزہ کرنے کی سازش

زمیں پر معجزہ کرنے کی سازش بتوں کو دیوتا کرنے کی سازش ہمارا چیخنا جسموں کے اندر خموشی کو سدا کرنے کی سازش درختوں پر بنانا نقشہ دل کے انہیں گویا ہرا کرنے کی سازش کشادہ اک قفس ہے آسماں بھی اسے کیجے خلا کرنے کی سازش ہمیں سے منزلوں کا کام لینا ہمیں کو راستہ کرنے کی سازش یہ ہر ...

مزید پڑھیے

دریا سے اختلاط ہے ہم رو نہیں رہے

دریا سے اختلاط ہے ہم رو نہیں رہے رونا ہماری ذات ہے ہم رو نہیں رہے اس بد دماغ دل نے کیا ضبط کا بھی خون یہ صرف واردات ہے ہم رو نہیں رہے کتنے دنوں کے بعد خوشی سے ملے ہیں ہم پھر بھی عجیب بات ہے ہم رو نہیں رہے یہ دن بھی کوئی دن تھا عجب خوش گوار دن یہ رات کوئی رات ہے ہم رو نہیں رہے رونے ...

مزید پڑھیے

مجھ میں پیوست ہو چکی ہو تم

مجھ میں پیوست ہو چکی ہو تم میرے اندر کی خامشی ہو تم کیا فقط شوق رہ گیا ہوں میں کس طرح بات کر رہی ہو تم خاص یہ ہے کے میں نہیں بدلہ اور دلچسپ کے وہی ہو تم اتنا اندازۂ سفر ہے مجھے آخری موڑ پہ کھڑی ہو تم کس قدر چیخنے لگا ہوں میں کتنی خاموش ہو گئی ہو تم خواب میں کیا دکھائی پڑتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2103 سے 6203