قومی زبان

خوشبو کا بھی وہی ہے جو ہے چلن ہوا کا

خوشبو کا بھی وہی ہے جو ہے چلن ہوا کا اس کا بدن ہوا کا ہے پیرہن ہوا کا کل رات یاد جاناں یا چاندنی کے باعث بے حد چمک رہا تھا سیماب تن ہوا کا صدیوں گیا وہ اس کے پیچھے حد جہاں تک لیکن نہ ڈھونڈ پایا ملک و وطن ہوا کا اپنے بدن سے ہٹ کر محسوس کر سکو تو تم کو دکھائی دے گا عریاں بدن ہوا ...

مزید پڑھیے

میرے پیروں تلے جو دھرتی ہے

میرے پیروں تلے جو دھرتی ہے میرے ہاتھوں ہی وہ بکھرتی ہے میں ہی دریا کی شکل بہتا ہوں اور مچھلی مجھی میں مرتی ہے ایک سورج ہے میرے سینے میں چاندنی جس کے پر کترتی ہے کوئی بے نیند رات چپکے سے شانۂ شام پر اترتی ہے جیسے جیسے وہ ہاتھ دھوتی ہے ویسے ویسے حنا نکھرتی ہے

مزید پڑھیے

بڑھا جو ہاتھ تو دیوار بیچ میں آئی

بڑھا جو ہاتھ تو دیوار بیچ میں آئی اٹھی نگاہ تو مینار بیچ میں آئی سفر سبھی کا معین ہے ایک ہی در تک تو کس سبب سے یہ رفتار بیچ میں آئی حصار فرق کبھی کا سمٹ گیا ہوتا کبھی انا کبھی دستار بیچ میں آئی سمجھنا سوچنا سننا جہاں نہیں ممکن کہاں سے عشق میں گفتار بیچ میں آئی در بہشت رہا دو ...

مزید پڑھیے

یاد رکھنے سے بھول جانے سے

یاد رکھنے سے بھول جانے سے کٹ گئے دن کسی بہانے سے میں سراپا ہوا دھنک صورت تیرے کچھ کچھ قریب آنے سے گھر میں بھوچال آ گیا ہوتا صرف دروازہ کھٹکھٹانے سے اب تو اتنا ہی یاد آتا ہے کوئی شکوہ سا تھا زمانے سے کل بغیچہ ہی بن گیا نغمہ ایک پنچھی کے چہچہانے سے

مزید پڑھیے

چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیں

چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیں ہم نے دو ایک ہی اعمال بچا رکھے ہیں پہلے گاتے تھے بجاتے تھے ہواؤں کے مزاج اب تو ٹوٹے ہوئے سر تال بچا رکھے ہیں اڑ گئے حسن و جوانی کے پرندے کب کے ہاں تصور میں خد و خال بچا رکھے ہیں بیٹھا کرتا تھا کبھی آ کے جو طائر اس کے اک دریچے نے پر و بال بچا رکھے ...

مزید پڑھیے

کب تلک بیٹھا رہے گا یہ جہاں در پر مرے

کب تلک بیٹھا رہے گا یہ جہاں در پر مرے اور کتنے دن رہے گا آسماں سر پر مرے معجزہ قسمت کا ہے یا ہے یہ ہاتھوں کا ہنر آ گرا میرا جگر ہی آج نشتر پر مرے چھٹپٹاتا ہے بیچارہ ریگ زاروں سے گھرا کوئی تو دست کرم ہوتا سمندر پر مرے جو جہاں پر ہے وہیں پر گھل رہا ہے دن بہ دن چھا گئی ہے بے حسی کی ...

مزید پڑھیے

نکلے ہیں دیوار سے چہرے

نکلے ہیں دیوار سے چہرے بجھے بجھے بیمار سے چہرے اپنے ملنے والوں کے ہیں کیوں اتنے لاچار سے چہرے میرے گھر کے ہر کونے میں آ بیٹھے بازار سے چہرے عرصہ ہوا ہے نہیں دیکھے ہیں ہم نے سرخ انار سے چہرے وادی کے صندوق سے نکلے چمکیلے دینار سے چہرے

مزید پڑھیے

بھولا بسرا وقت پھر مہمان ہے

بھولا بسرا وقت پھر مہمان ہے پھر وہی آنگن وہی دالان ہے ایک کمرہ ہے کہیں جس میں نہاں میرے بچپن کا سر و سامان ہے بت کدے میں جو بھی ہے پتھر کا ہے اور پتھر کا خدا انسان ہے بے طرح مشکل ہے تجھ کو دیکھنا سوچنا لیکن بڑا آسان ہے جل اٹھا کیوں کر مرے دل کا چراغ جب کہ سالوں سے یہ گھر ویران ...

مزید پڑھیے

راستہ ہے پر خطر یہ سوچ کر

راستہ ہے پر خطر یہ سوچ کر صبح سے بیٹھا ہوں میں دہلیز پر شاخ تنہا پر کبھی تھا آشیاں آشیاں میں آسمان و بال و پر بے در و دیوار دنیا عشق کی کھو گیا سنسار زیر بام و در ٹوٹتا جاتا ہے میرا حوصلہ آ رہا ہے میری جانب راہبر چل کہ تجھ کو تیرے گھر تک چھوڑ دوں تو اگر رہنے دے مجھ کو میرے ...

مزید پڑھیے

قیس کا بھی کہیں ٹھکانا ہو

قیس کا بھی کہیں ٹھکانا ہو تھوڑا پانی ہو تھوڑا دانہ ہو اپنا پت جھڑ چھپا کے سینے میں باغ دنیا میں آنا جانا ہو سرد ہوں گرم ہوں ہوائیں ہوں موسم دل ذرا سہانا ہو ایک آنگن ہو دو منڈیریں ہوں اور تھوڑا سا چہچہانا ہو اک تصور ذرا سا لمس ہنر تیرا پیکر ہو جو بنانا ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 2053 سے 6203