قومی زبان

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے میں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہے مجھے کون سربلندی کی طرف بلا رہا ہے مرا نرگسی تخیل تو شکست کھا چکا ہے تجھے قاتلوں کے نرغے سے چھڑائے گا نہ کوئی یہ ہے مقتل اے مسافر تو کسے پکارتا ہے سر شام جو غریبوں کے دیے بجھا رہی ہیں انہیں سازشوں کا مرکز ...

مزید پڑھیے

تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دینا

تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دینا کوئی ہمسر ہو تو دیوار میں چنوا دینا مطلق الحکم ہیں سب ان دنوں گھبرائے ہوئے یہ خبر اس کے حضور آج ہی پہنچا دینا سر اٹھائے گا زمانہ یہ کہے دیتا ہوں جوں ہی ایسا ہو اسے دار پر کھنچوا دینا میرے تاریک مکاں میں اسے ہوگی تکلیف اے صبا اس کو گلستاں ہی ...

مزید پڑھیے

سر پہ دست ہوا ہے صدیوں سے

سر پہ دست ہوا ہے صدیوں سے غیب کا آسرا ہے صدیوں سے صرف دو پاؤں اور وسیع زمیں یہ بھی اک معجزہ ہے صدیوں سے ہے کم و بیش نیلگوں ہر شے درد کا سلسلہ ہے صدیوں سے جیسے پانی ہوا ہوا پانی مجھ میں تو مبتلا ہے صدیوں سے سننے والا ہو کوئی تو سن لے عشق نغمہ سرا ہے صدیوں سے

مزید پڑھیے

میں گہری نیند میں تھا جب کہ یہ بھیجی گئی دنیا

میں گہری نیند میں تھا جب کہ یہ بھیجی گئی دنیا اب استعمال کرنی ہے مجھے دے دی گئی دنیا بہ وقت صبح لگتا تھا کہ کچھ کچھ دسترس میں ہے جو آئی شام ہاتھوں سے مرے لے لی گئی دنیا پڑی ہے جا بجا ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں سی کسی انجان کھڑکی سے کبھی پھینکی گئی دنیا مرے در پر نئے دن کو مہکتے پھول ...

مزید پڑھیے

کل سماعت دکھی صدا کو دوں

کل سماعت دکھی صدا کو دوں جسم دھرتی کو جاں ہوا کو دوں اپنی ساری متاع عقل و خرد روٹھنے کی تری ادا کو دوں کل عناصر الگ الگ کر کے کچھ تجھے اور کچھ خدا کو دوں اک دھنک ہے مری نگاہوں میں تیری زلفوں کو یا گھٹا کو دوں دیکھوں کتنا لہو ٹپکتا ہے اب کے خنجر کف وفا کو دوں

مزید پڑھیے

کوئی شکوہ کوئی گلہ رکھیے

کوئی شکوہ کوئی گلہ رکھیے کچھ نہ کچھ جاری سلسلہ رکھیے مسئلے زندگی کے اپنی جگہ فصل گل کا بھی کچھ پتا رکھیے چند لمحے چھپا کے لوگوں سے خود کو خود میں بھی مبتلا رکھیے سب کو اپنائیے مگر خود سے خود کا تھوڑا سا فاصلہ رکھیے جسم دے دیجئے زمانے کو یاد سے صرف دل ملا رکھیے

مزید پڑھیے

جو نہیں ہے اسی کھلے در کو

جو نہیں ہے اسی کھلے در کو جا رہا ہوں میں چھوڑ کر گھر کو اپنی دہلیز سے میں تا منزل ڈھونڈھتا ہی رہا ہوں رہبر کو کیا کروں جا کے قبر میں لیٹوں کیسے بھولوں میں موت کے ڈر کو تو بھی آتا ہے ساتھ ساتھ کہ جب یاد کرتا ہوں اپنے دلبر کو جا رہی ہے خزاں بغیچے سے چھوڑ کر دامن معطر کو یاد کرتا ...

مزید پڑھیے

نہ کر پائے دشمن بھی جو دشمنی میں

نہ کر پائے دشمن بھی جو دشمنی میں کیا ہے رفیقوں نے وہ دوستی میں بزرگوں سے پایا ہے یہ راز ہم نے ہے جینے کی لذت فقط سادگی میں عبث ہے عبادت عبث اس کا تقویٰ اگر آدمیت نہیں آدمی میں فلک تک اگر تو گیا بھی تو کیا ہے بہت فاصلہ ہے ابھی آگہی میں زمانے کو اب کوئی کیسے بتائے بڑی تیرگی ہے نئی ...

مزید پڑھیے

کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا (ردیف .. ے)

کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا وہیں وہ نقش پا ابھرا جہاں رکھ دی جبیں میں نے میں ہر اک اجنبی کو دیکھ کر محسوس کرتا ہوں کہ شاید اس کو دیکھا ہے کبھی پہلے کہیں میں نے بشر کا ہے بشر دشمن یہ کیسا دور ہے یارو محبت کا چلن بالکل نہیں دیکھا کہیں میں نے مری اک مسکراہٹ پر یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے

حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے زمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہے تعلق رہنما کا مفلس و نادار سے کیسا انہیں ووٹوں کی خاطر وقت پر پھسلایا جاتا ہے کہیں میری شرافت کو نہ کمزوری سمجھ بیٹھے کبھی دشمن کو بھی اس واسطے دھمکایا جاتا ہے اگرچہ ہر نئے دن کا نیا انداز ہے لیکن کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2052 سے 6203