مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے
مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے میں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہے مجھے کون سربلندی کی طرف بلا رہا ہے مرا نرگسی تخیل تو شکست کھا چکا ہے تجھے قاتلوں کے نرغے سے چھڑائے گا نہ کوئی یہ ہے مقتل اے مسافر تو کسے پکارتا ہے سر شام جو غریبوں کے دیے بجھا رہی ہیں انہیں سازشوں کا مرکز ...