قومی زبان

وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے

وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے رخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہے اپنے گھر میں بھی تو ہے چین سے سونا مشکل چھت نہ گر جائے یہ کھٹکا سا لگا رہتا ہے وہ زمیں خاک اگائے گی عداوت کے سوا پیار پر جس جگہ پہرہ سا لگا رہتا ہے بھیڑ چھٹتی نہیں اس کلبۂ احزاں سے کبھی آرزوئیں ہیں کہ میلہ سا ...

مزید پڑھیے

میری خاک

خاک کو خاک کرنا ضروری ہے گر ایسی مٹی میں مجھ کو ملا کوزہ گر جس سے بچے کا کوئی کھلونا بنے ننھے ہونٹوں پہ جس سے ہنسی سج سکے یا مجھے رکھ کسی چاک پہ اس طرح میری مٹی ملا کر بنے اک دیا جو اندھیرے گھروں میں اجالا کرے اور دئے سے دیا روز جلتا رہے یوں دیا روشنی چاک باقی رہے خاک ہو کر مری خاک ...

مزید پڑھیے

نہ ہوتا درد تو واپس سنور بھی سکتا تھا

نہ ہوتا درد تو واپس سنور بھی سکتا تھا ٹھہر گیا ہے جو لمحہ گزر بھی سکتا تھا ندی کی اور گیا تھا اسی ارادے سے پلٹ گیا ہوں مری جاں اتر بھی سکتا تھا مجھے تلاش کریں گی وہ بھولی آنکھیں کل وگرنہ زخم تھے اتنے کہ مر بھی سکتا تھا یہ اور بات کسی اور کا نہ رہنے دیا وہ ایک شخص جو بھیتر ٹھہر ...

مزید پڑھیے

ہم تو ہیں آسماں کے خسارے زمین پر

ہم تو ہیں آسماں کے خسارے زمین پر بچھڑے ہوئے ہیں اس پہ ہمارے زمین پر صورت ملی نہ یار ملا خاکیوں کے بیچ رہتے ہیں ہم گھٹا کے سہارے زمین پر وہ زلف شام خواب یہ سگریٹ دھواں شراب باقی بڑے خراب نظارے زمین پر کس سے کرے گا پیڑ کٹی بانہہ کا گلا کوئی نہیں ہے جس کو پکارے زمین پر جل کر بجھے ...

مزید پڑھیے

شب سیاہ ہے ندی کے پاس بیٹھے ہیں

شب سیاہ ہے ندی کے پاس بیٹھے ہیں کسی کی یاد میں تنہا اداس بیٹھے ہیں گزر رہے ہیں مناظر نظر کے آگے سے سبھی سے چھپتے ہوئے بد حواس بیٹھے ہیں جگے ستاروں کی محفل اجڑنے والی ہے ادھر پہن کے اندھیرے لباس بیٹھے ہیں ہمارے بعد اسے کون ہے جو سنتا ہو فریب کھا کے بھی ہم اس کے پاس بیٹھے ہیں یہی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹتی فریاد کی سوچو کبھو اے ہم نشیں

ٹوٹتی فریاد کی سوچو کبھو اے ہم نشیں اس جنوں کے باد کی سوچو کبھو اے ہم نشیں لطف تم کو آ رہا ہے چار دن کے عشق میں تا ابد اک یاد کی سوچو کبھو اے ہم نشیں آنکھ رونے بھی نہ پائے اور دل ہو غم زدہ ضبط کے میعاد کی سوچو کبھو اے ہم نشیں تم کبھی پہلو بدل کر اس زمیں سے آ لگو پھر دل برباد کی سوچو ...

مزید پڑھیے

طویل رات ہو ایسی کنارے بھی نہ رہیں

طویل رات ہو ایسی کنارے بھی نہ رہیں ہمارے ساتھ میں چلتے ستارے بھی نہ رہیں تلاش میری کسی رہ گزر تلک جائے نہ جیت پائے اگر اس کو ہارے بھی نہ رہیں ہوا اتار بدن میرا اور چمن سے نکل لے چل ادھر کہ جدھر یہ نظارے بھی نہ رہیں مجھے اجاڑ چکی آندھیاں پلٹ آئیں ہے ان کو فکر بھلا ہم ہمارے بھی نہ ...

مزید پڑھیے

پرانی یاد کی تمام کرچیاں لئے ہوئے

پرانی یاد کی تمام کرچیاں لئے ہوئے اداس شام آ گئی پہیلیاں لئے ہوئے ٹپک پڑا لہو اچھلتی مچھلیوں کو دیکھ کر کبھی ملے تھے تم بھی کج کلاہیاں لئے ہوئے ابھی تو موت سے ہیں دور زندگی کی پیاس ہے کبھی چلیں گے اس طرف روانیاں لئے ہوئے ٹھہر ذرا مرے رقیب دوست ساتھ ساتھ چل ہم اس کی اور جا رہے ...

مزید پڑھیے

بھری محفل میں گنوانے کے لیے کچھ بھی نہیں

بھری محفل میں گنوانے کے لیے کچھ بھی نہیں اب مرے پاس زمانے کے لیے کچھ بھی نہیں ایک چہرہ ہے جہاں درد کی دو آنکھیں ہیں دل نہیں اور دکھانے کے لیے کچھ بھی نہیں میرا کردار کہانی میں بھی مر جائے گا رائیگاں ہے جو فسانے کے لیے کچھ بھی نہیں رات خاموشی لئے یوں تو چلی آئی ہے آج پر مجھ کو ...

مزید پڑھیے

خاموشی کی دھن پہ تنہا رقص کرتی رات ہے

خاموشی کی دھن پہ تنہا رقص کرتی رات ہے زخم کھائے دل کے سینے میں اترتی رات ہے صحرا صحرا پیاس کے منظر سے ہو کر رو بہ رو اب کسی عاشق کے ہونٹوں سے ابھرتی رات ہے پھول سورج روشنی سے دور شبنم کی طرف دن ڈھلے تاروں کے درپن میں سنورتی رات ہے ٹیس گہری اور یادوں کا اترتا قافلہ پیار کے دوزخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1996 سے 6203