قومی زبان

پن کشن

مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیں اور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوں سے آئے خطوں سے نکالی گئی ہیں یہ اس وقت ظاہر حقیقت کی صورت مرے پن کشن میں لگی ہیں اگر پن کشن کی ہر اک پن یہ سوچے کہ میں تو فلاں دیش کی ہوں فلاں دیش نے میرا لوہا جنا تھا فلاں دیش نے میری صورت گڑھی تھی تو یہ ...

مزید پڑھیے

حکایت شب

چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلے یہاں میرا ''ہم سب'' سے مطلب ہے وہ دوسرے ہم وطن اور پڑوسی کہ جو ملک افرنگ کی اس بڑی جامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھے ''کسی'' سے یہ مطلب ہے ہم کو خبر تک نہیں تھی کہ ہم سب کہاں جا رہے ہیں کہاں کس کو کس شخص کی میزبانی ملے ...

مزید پڑھیے

سقوط‌ شادمانی

مسرت کے اس لمحۂ بے کراں میں کہ ہم دونوں لیٹے ہوئے گھاس پر نیلے آکاش کو دیکھتے تھے تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھا خوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہے یہ مخمل سا توشک نما سبزہ ہوا کا یہ کیف خماریں چمکتی ہوئی دھوپ کے گرم پیوست بوسے فلک کی فراخی فضاؤں کا یہ ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ چیخنا آرام ہو جانے کے بعد

رفتہ رفتہ چیخنا آرام ہو جانے کے بعد ڈوب جانا پھر نکلنا شام ہو جانے کے بعد دیر تک خاموشیوں سے گفتگو کرنا کبھی دیر تک سننا انہیں ہر کام ہو جانے کے بعد بستیوں سے دور جانا خواہشوں کو پار کر جنگلوں میں ناچنا گمنام ہو جانے کے بعد آسماں والوں سے اپنی رنجشوں کو بھولنا روح کے بازار میں ...

مزید پڑھیے

تنہا سفر ہے اور ہے یادوں کی قبر گاہ

تنہا سفر ہے اور ہے یادوں کی قبر گاہ ٹھہری ہوئے سماں میں ڈرے جھینگروں کی آہ مدھم لپکتی لو سے چمک اٹھتا آسماں ایسے میں درد ہجر کی ہلکی سی اک نگاہ سوز دروں میں مست ہوں پھر بھی کوئی کمیں ہے چاہتی ذرا کی ابھی اور ہوں تباہ مجھ سے خلا میں بات بھی کرنا نہیں رفیق ایسے خلا میں بات بھی ...

مزید پڑھیے

کالی راتوں میں بھر گئے آخر

کالی راتوں میں بھر گئے آخر رنگ وہ جو اتر گئے آخر خامشی عمر بھر نہیں سوئی چاند تارے بکھر گئے آخر دوستی بادلوں سے کی ہم نے جہاں ٹھہرے ابھر گئے آخر زندگی کچھ وفا بھی کرتی ہے اسی خواہش میں مر گئے آخر دل تو کہتا تھا جی نہ پائیں گے دیکھ پر ہم مکر گئے آخر

مزید پڑھیے

اجڑے ہوئے دماغ کا چہرہ اداس ہے

اجڑے ہوئے دماغ کا چہرہ اداس ہے صحرا کے ہر سراغ کا چہرہ اداس ہے سگریٹ کی اس ذرا سی ہوئی روشنی میں دیکھ سوئے ہوئے چراغ کا چہرہ اداس ہے محبوب اور جہان کے زخموں میں جنگ ہے اس سانحہ سے داغ کا چہرہ اداس ہے ایسا کوئی تو تھا جسے پھولوں سے پیار تھا جو مر گیا تو باغ کا چہرہ اداس ہے اپنی ...

مزید پڑھیے

کھویا ہوا دماغ ہے وحشت ہے اور تو

کھویا ہوا دماغ ہے وحشت ہے اور تو دنیا کے چند لوگ ہیں ظلمت ہے اور تو اجڑے ہوئے دیار میں خوابوں کی راکھ پر بے رحم سی امید کی زینت ہے اور تو مجھ کو شب فراق میں اچھا ہی لگ رہا نشہ ہے مرگ یاس کا راحت ہے اور تو دریا کی پیاس پیاس تھی ساغر سے بجھ گئی لیکن ہماری پیاس میں کلفت ہے اور ...

مزید پڑھیے

ادھر رکی ہوئی ہے رات جگنوؤں کا رقص ہے

ادھر رکی ہوئی ہے رات جگنوؤں کا رقص ہے ادھر ندی کے حسن پر سیاہیوں کا رقص ہے چھپی ہوئی ہے چاندنی سفید بادلوں کے بیچ سکوت کی عمارتوں پہ بجلیوں کا رقص ہے اترتی تیرتی نظر یہ یاد یار کا سفر اسی خلا کے درمیان اژدہوں کا رقص ہے جہاں سے ختم ہو رہی وہیں سے پھر بنی نئی مری اجاڑ فکر میں ...

مزید پڑھیے

میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتا

میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتا دل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتا اب تو وہ شاخ بھی شاید ہی گلستاں میں ملے کاش اس پھول کو اس وقت ہی توڑا ہوتا وقت فرصت نہیں دے گا ہمیں مڑنے کی کبھی آگے بڑھتے ہوئے ہم نے جو یہ سوچا ہوتا ہنستے ہنستے جو ہمیں چھوڑ گیا ہے حیراں اب رلانے کے لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1995 سے 6203