قومی زبان

حسیں سحر کی فضا دردناک ہونے سے

حسیں سحر کی فضا دردناک ہونے سے بچائیں کیسے تمنا کو خاک ہونے سے ہوا جو جور و ستم حد سے بڑھ گیا ہے اب بچائے کون شجر کو ہلاک ہونے سے ادھورا رہ گیا میرا فسانۂ امید ہمیشہ مسئلۂ انہماک ہونے سے خوشی بھی کھو گئی ظلمت کے جنگلوں میں کہیں جہاں کا پرچم اخلاص چاک ہونے سے سمجھ لے کیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

اب دلائے مجھے تسکین تو آخر کوئی

اب دلائے مجھے تسکین تو آخر کوئی دے گیا درد کا احساس مہاجر کوئی میری فریاد و فغاں گونج رہی تھی لیکن میرے گھر تک نہیں آیا کبھی ناصر کوئی رنگ اڑتا ہوا لگتا ہے ہر اک تتلی کا آ گیا باغ میں کیا پھول کا تاجر کوئی اپنے دامن میں لئے جاتا ہے رستے کا غبار چھانو ہے ہی کہاں ٹھہرے جو مسافر ...

مزید پڑھیے

نیا لہجہ نیا منظر نیا پندار ہو پیدا

نیا لہجہ نیا منظر نیا پندار ہو پیدا مرے نغموں سے ایسی رونق گلزار ہو پیدا یہی تھا مصلحت اندیش موسم کا تقاضا کیا صدائے خامشی سے اک نئی گفتار ہو پیدا بکھر جاتا ہے سب شیرازۂ امن‌‌ و سکوں آخر اگر بستی میں کوئی آدمی خوں خوار ہو پیدا کہاں برداشت ہو سکتا ہے یہ مجھ سے کسی صورت ثمر ...

مزید پڑھیے

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھایا گیا ہوں

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھایا گیا ہوں بڑی الجھن میں الجھایا گیا ہوں سبب پوچھو نہ میری تشنگی کا اک اک قطرے کو ترسایا گیا ہوں مجھے جو دیکھتے ہو اس زمیں پر فلک سے توڑ کر لایا گیا ہوں کہاں اب ڈھونڈتے ہو خاک میری ہوا کے ساتھ ہی آیا گیا ہوں سزائیں مجھ کو کیسی مل رہی ہیں میں مجرم کس کا ...

مزید پڑھیے

خواہش کرکے غم کو مخاطب کون کرے

خواہش کرکے غم کو مخاطب کون کرے اپنا سفر صحرا کی جانب کون کرے زرد ہوئے ہیں پیڑ کے پتے ساون میں اب موسم کا بھروسا صاحب کون کرے خون سے اپنے شمعیں جلاتا ہوں لیکن دن کے جیسا رات کا قالب کون کرے رتبہ دینا شان کریمی کا ہے کام مٹی کے پتلے کو ثاقب کون کرے اندھی نگری کے قانون نرالے ...

مزید پڑھیے

ان سے شکوہ بھی ہے شکایت بھی

ان سے شکوہ بھی ہے شکایت بھی باوجود اس کے ان سے الفت بھی کیا صلہ دے گئی محبت بھی چاک داماں ہے زور وحشت بھی کوئی تم سا نظر نہیں آتا لاکھوں دیکھے ہیں خوب صورت بھی آرزو تھی کہ دیکھتے جلوہ رہ گئی دل کی دل میں حسرت بھی یہ زمانہ عجب زمانہ ہے شرم رخصت ہوئی ہے غیرت بھی اب منائیں تو کیا ...

مزید پڑھیے

ترا دست ستم ہے اور میں ہوں

ترا دست ستم ہے اور میں ہوں مرا چھوٹا سا دم ہے اور میں ہوں یہ دنیا ہے الم ہے اور میں ہوں تری تیغ ستم ہے اور میں ہوں مرے اپنے نہیں ہیں آج اپنے یہی تو ایک غم ہے اور میں ہوں خدا جانے کہاں لے جائے وحشت ترا نقش قدم ہے اور میں ہوں مجھے منظور ہے ہر بات تیری سر تسلیم خم ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا

وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا اندھیرا اور گھنا کاسۂ سحر میں گرا یہ روشنی کی وراثت خریدتا کیسے ہمیشہ سکۂ شب ہی مرے کھنڈر میں گرا میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں مگر پتہ ہی نہیں کہاں یہ زاد سفر گرمیٔ سفر میں گرا نہ جانے کون سا سورج دہک رہا ہے یہاں نفس سے جس کے ہرا پیڑ دوپہر میں ...

مزید پڑھیے

کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار

کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار چھین کر تجھ سے میں دل کو لے گیا تھا ایک بار یہ مری خوش قسمتی تھی بچ گیا تھا بال بال نفرتوں کا مجھ پہ بھی پتھر گرا تھا ایک بار کھلتے ہونٹوں پر گلوں کے چھا گئی پژمردگی کیا صبا نے درد کا تحفہ دیا تھا ایک بار اور کیا مجھ کو تری دہلیز سے حاصل ...

مزید پڑھیے

بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ

بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ افق پر چھا گیا بن کر فغاں آہستہ آہستہ یہ کیسی آندھیوں کا جبر ہے اپنے گلستاں میں اجاڑے جا رہی ہیں گلستاں آہستہ آہستہ نہ جانے کون سی آفت کی چادر تن گئی آخر پگھلتا جا رہا ہے آسماں آہستہ آہستہ سکوں کی نیند آئے کیسے مجھ کو جب سفیر شب چرا کے لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1866 سے 6203