کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار

کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار
چھین کر تجھ سے میں دل کو لے گیا تھا ایک بار


یہ مری خوش قسمتی تھی بچ گیا تھا بال بال
نفرتوں کا مجھ پہ بھی پتھر گرا تھا ایک بار


کھلتے ہونٹوں پر گلوں کے چھا گئی پژمردگی
کیا صبا نے درد کا تحفہ دیا تھا ایک بار


اور کیا مجھ کو تری دہلیز سے حاصل ہوا
کاغذی خوشیوں کا گلدستہ ملا تھا ایک بار


آسماں سے گر پڑا اندھی زمیں کے جسم پر
بے تحاشا شوق کا طائر اڑا تھا ایک بار


میں ہوائے ہجر کی تاثیر سے ہوں با خبر
بحر اعظم بھی لرز کر چیخ اٹھا تھا ایک بار