بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ

بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ
افق پر چھا گیا بن کر فغاں آہستہ آہستہ


یہ کیسی آندھیوں کا جبر ہے اپنے گلستاں میں
اجاڑے جا رہی ہیں گلستاں آہستہ آہستہ


نہ جانے کون سی آفت کی چادر تن گئی آخر
پگھلتا جا رہا ہے آسماں آہستہ آہستہ


سکوں کی نیند آئے کیسے مجھ کو جب سفیر شب
چرا کے لے گیا امن و اماں آہستہ آہستہ


کہاں اب ڈھونڈتے ہو آدمیت عہد حاضر میں
وفا کا مٹ گیا نام و نشاں آہستہ آہستہ