وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا
وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا
اندھیرا اور گھنا کاسۂ سحر میں گرا
یہ روشنی کی وراثت خریدتا کیسے
ہمیشہ سکۂ شب ہی مرے کھنڈر میں گرا
میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں مگر پتہ ہی نہیں
کہاں یہ زاد سفر گرمیٔ سفر میں گرا
نہ جانے کون سا سورج دہک رہا ہے یہاں
نفس سے جس کے ہرا پیڑ دوپہر میں گرا
اندھیرا چھا گیا ہر سمت دفعتاً آتشؔ
شرار سنگ سر خطۂ نظر میں گرا