قومی زبان

کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا یہ دن گزار رہیں یہ کیسے لوگ یہاں نئے مزاج کے سانچے میں ڈھل کے دیکھ ذرا یہ ...

مزید پڑھیے

شاخ در شاخ اگر دھوپ کے پہرے ہوں گے

شاخ در شاخ اگر دھوپ کے پہرے ہوں گے کسی پتے کے کہاں خواب سنہرے ہوں گے جب کبھی درد کی چیخوں سے فضا گونجے گی شہر کی بھیڑ میں ہم لوگ بھی بہرے ہوں گے اک بھیانک سی فضا آپ نے دیکھی ہوگی اجنبی شہر میں جب رات کو ٹھہرے ہوں گے وقت سائے کی طرح میرے تعاقب میں ہے میں جہاں جاؤں گا آفات کے پہرے ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے رنگ قیاس تازہ لیے

بہار آئی ہے رنگ قیاس تازہ لیے شجر شجر کے بدن پر لباس تازہ لیے ہماری سمت کسی نے پلٹ کے دیکھا نہیں تمام پھرتے رہے لب پہ پیاس تازہ لیے کوئی ملا نہ خریدار ہم کو شام تلک بھٹک رہے ہیں لہو کا گلاس تازہ لیے گلوں کی خیر نہیں اب کسی طرح شاید خزاں کا قافلہ نکلا ہے آس تازہ لیے نہ جانے کون ...

مزید پڑھیے

اسی طرح مری آنکھوں کو بند ہونا تھا

اسی طرح مری آنکھوں کو بند ہونا تھا ترے غرور کا پرچم بلند ہونا تھا نگہ کے ساتھ کہاں تک سفر کیا جائے تھکن سے چور مرا بند بند ہونا تھا حصار ذات ہے یا کوئی آئینہ خانہ نہ اس قدر بھی ہمیں خود پسند ہونا تھا شعاع مہر کا دم بھی بڑا غنیمت ہے فصیل شب کو سحر تک بلند ہونا تھا بہت دبیز سہی ...

مزید پڑھیے

یاد گزرے ہوئے لمحوں کی سزا ہو جیسے

یاد گزرے ہوئے لمحوں کی سزا ہو جیسے پر سکوں جھیل میں کنکر سا گرا ہو جیسے دل نے بھولے سے ترا نام لیا ہے جب بھی بند کمرے میں کوئی ساز بجا ہو جیسے لمس پا کے وہ بکھرنا تری رعنائی کا شاخ نے ساتھ ہواؤں کا دیا ہو جیسے مسکراہٹ ہے کہ قاصد کوئی پیغام لیے اوٹ میں بند دریچے کی کھڑا ہو ...

مزید پڑھیے

رگ جاں سے لپٹ کر سینۂ بسمل میں رہتا ہے

رگ جاں سے لپٹ کر سینۂ بسمل میں رہتا ہے وہ بت چہرہ سہی لیکن ہمارے دل میں رہتا ہے برتنے کا سلیقہ ہو اگر تو بات ہے بنتی زباں کا حسن تو الفاظ کی جھلمل میں رہتا ہے سزا کا خوف تو گمراہ کر دیتا ہے منصف کو ہمارا خون ناحق دیدۂ قاتل میں رہتا ہے ہماری آنکھ میں رہتا ہے اس کا حسن کچھ ...

مزید پڑھیے

اخلاص کی قدروں کا سوالی ہے تو لا ہاتھ

اخلاص کی قدروں کا سوالی ہے تو لا ہاتھ ہم لوگ اسی شہر کے باسی ہیں ملا ہاتھ لوگوں نے سکوں ڈھونڈ لیا شہر میں جا کر ہم ڈھونڈنے جاتے ہیں تو آتی ہے بلا ہاتھ دریا کے تلاطم سے تڑپنے کی ادا سیکھ جینا ہے تو منجدھار کے اندر بھی ہلا ہاتھ رخصت ہوئی فرعون کے محلوں سے خدائی نکلا جو گریبان سے ...

مزید پڑھیے

یہ شہر گل خش و خاشاک ہو گیا کیسے

یہ شہر گل خش و خاشاک ہو گیا کیسے مجھے پتہ نہیں غم ناک ہو گیا کیسے جس آدمی نے کنارہ کبھی نہیں دیکھا سمندروں کا وہ تیراک ہو گیا کیسے کہیں چراغ کی مدھم سی روشنی بھی نہیں تو پھر یہ دامن شب چاک ہو گیا کیسے زمانہ کہتا رہا جس کو عمر بھر احمق وہ شخص صاحب ادراک ہو گیا کیسے ہوائے تند کو ...

مزید پڑھیے

ابھی دریا میں طغیانی بہت ہے

ابھی دریا میں طغیانی بہت ہے سنبھل کر پاؤں رکھ پانی بہت ہے سلامت ہے یقیں کی شاخ کیسے نئے موسم کو حیرانی بہت ہے چلو کچھ پیڑ رستے میں اگائیں مسافر کو پریشانی بہت ہے سمجھتے ہیں کہاں وہ مصلحت کو نئی نسلوں میں نادانی بہت ہے مرے چہرے پہ دھندلاہٹ ہے لیکن کسی کا چہرہ نورانی بہت ...

مزید پڑھیے

جاؤں کہاں ہے پاؤں میں زنجیر کیا کہوں

جاؤں کہاں ہے پاؤں میں زنجیر کیا کہوں بے رنگ دھوپ سے ہوئی تصویر کیا کہوں اپنا لہو پلانا پڑا اینٹ اینٹ میں کیسے ہوئی مکان کی تعمیر کیا کہوں اس مسئلے پہ آپ بھی کچھ غور کیجئے کیوں آدمی کی گھٹ گئی توقیر کیا کہوں زندہ جلا رہا ہے مجھے زندگی کا کرب کس تیرگی میں کھو گئی تنویر کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1865 سے 6203