قومی زبان

نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے

نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے وہی ہے شاہ جو راز‌‌ قلندری جانے ہوا بکھیرتی مجھ کو ہے گرد کی صورت جہاں میں کون ہے جو میری بے گھری جانے بس ایک تیرے سوا بے خبر نہیں کوئی ہمارا حال تو رستے کی کنکری جانے تری اداؤں کی پہچان خوب ہے مجھ کو ترے کرم کی کوئی کیا ستم گری جانے مری نگاہ میں ...

مزید پڑھیے

ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی

ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی شکست زیست کی تصویر سرخ ہونے لگی مرے بدن کا لہو بھی تو اس میں شامل ہے جلا چراغ تو تنویر سرخ ہونے لگی کوئی بھی زخم مرے جسم پر نہیں لیکن پسینہ ٹپکا تو تحریر سرخ ہونے لگی ہمارے بخت کا سورج غروب ہونے سے ہر ایک قوم کی تقدیر سرخ ہونے لگی جو اک زمانے سے ...

مزید پڑھیے

سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں

سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں بے کفن لاش لئے سڑکوں پہ ہم روتے ہیں کس لئے غازۂ غم چہرے پہ ملتے ہیں آپ ہم کہاں جاتے ہوئے ملک عدم روتے ہیں عقرب شام کسے ڈنک نہیں مارتے یاں ہم بھی روتے ہیں مگر آپ سے کم روتے ہیں کس قدر ہو گئے بے حس یہ ہمارے شاعر آنکھ ہی روتی ہے ان کے نہ قلم ...

مزید پڑھیے

میں کب سے بے خال و خط پڑا ہوں

کہاں ہیں آنکھیں میں جن میں تیرہ شبی کا تریاق آسماں پر کھلے ستاروں میں ڈھونڈتا تھا میں دیکھتا تھا جو حد ادراک میں نہیں تھا جو دور ہو کر بھی میرے معروض میں کہیں تھا میں اپنی پوروں سے پورا چہرہ ٹٹول کے خود سے پوچھتا ہوں کہاں ہیں ہونٹوں کے سرخ کونے کسی کے رخسار کی اماوس کی رات میں ...

مزید پڑھیے

ایک کتبے کی تلاش میں

ہواؤں کے تعاقب میں میں اک تتلی سے ٹکرا کے زمیں پر گر پڑا ہوں پروں کی گدگداہٹ سے مرے ماتھے سے خوں بہنے لگا ہے مجھے یکسانیت سے خوف آتا ہے زیادہ دیر اک ہی کیفیت میں زندہ رہنا کتنا مشکل ہے پرانے موسموں کی نوحہ خوانی میں نئے موسم کی خواہش پیدا ہوتی ہے میں اپنے حلق کے اندر کنواں تعمیر ...

مزید پڑھیے

دھند سے لپٹا راستہ

میرے اندر مرے آگے پیچھے بھی میں ہوں زمانوں کے سایوں کی وسعت سمیٹے مرا دائرہ اپنے امکان کی حد پہ نوحہ کناں ہے جہاں دھند کے ساتھ بہتی ہوئی موت اب ایک جنگل بنائے کھڑی ہے مری آنکھ میں منجمد خوف تحلیل ہونے کو تیار ہے یہ وہ لمحہ ہے جس کی گواہی کی نمکینی میرا حلال بدن ہے مگر کیا یہ میرے ...

مزید پڑھیے

بدن کا نوحہ

میں نے کل ایک خواب دیکھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں میری نیند میرے جسم کے اندر رہ رہی ہے مجھ تک منتقل نہیں ہو پا رہی آنکھوں میں بصارت ہے مگر مجھے دکھائی نہیں دے رہا میں چلتا ہوں مگر پاؤں حرکت نہیں کر پاتے گھٹن کے مارے سانس لیتا ہوں تو ریت منہ سے نکلتی ہے میں خواب سے بے دار ہو جاتا ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی جی کرتا ہے دور فلک تک اڑتا جاؤں چاند کی دودھیا بھیڑ کو ذبح کر آؤں اپنے ناخن کی دھار سے گھنے پہاڑوں کو چیر آؤں اتنی زور سے چیخوں ساری خوشبو دار ہوائیں دور تلک لڑھکیں اور مر جائیں کبھی کبھی جی کرتا ہے خاموش رہوں اپنے باطن کی تنہائی میں آ کر چپ کے دو آنسو رو لوں

مزید پڑھیے

چہرے کی گرد

گاڑیوں کے بہاؤ میں بہتے ہوئے شور کی گرد میرے دھواں بنتے چہرے پہ جمنے لگی ہے میں پہلے ہی جمتے ہوئے خون کی گلتی سڑتی ہوئی خواہشوں کی کراہت سے سانسوں کی قے کرنے کی ایک سعی مسلسل میں مصروف ہوں میرا دل تتلیوں کی رفاقت کی ضد کر رہا ہے مگر میں اسے ہڈیوں سے تنے جال سے کیسے باہر نکالوں کڑی ...

مزید پڑھیے

کریں کہہ دو منہ بند غنچے سب اپنا

کریں کہہ دو منہ بند غنچے سب اپنا میں لکھتی معما ہوں اس کے وہاں کا جسے لوگ کہتے ہیں خورشید رخشاں شرارہ ہے اک میرے سوز نہاں کا مری آہ کی کار فرمائیاں ہیں پتہ لا مکاں تک نہیں آسماں کا

مزید پڑھیے
صفحہ 1867 سے 6203