قومی زبان

میری ہر بات پر وہ خفا سا لگے

میری ہر بات پر وہ خفا سا لگے صاف گوئی کا اس کو برا سا لگے سانس لیتے ہیں ہم کیسے ماحول میں جو بھی منظر ہے وہ کربلا سا لگے کس نے موسم کو سکھلائی ایسی ادا کبھی خوش اور کبھی یہ خفا سا لگے جس کی نس نس میں شامل ہیں کڑواہٹیں وہ ہی درد کی کیوں دوا سا لگے جب بھی ملتا ہے خاموش رہتا ہے وہ اس ...

مزید پڑھیے

زمانے پہ گہری نظر کرتے کرتے

زمانے پہ گہری نظر کرتے کرتے میں تھک بھی چکی ہوں سفر کرتے کرتے بہت دیر کر دی مرے مہرباں نے عنایت کی مجھ پہ نظر کرتے کرتے کئی مشکلیں آئیں گی راستے میں یہ قاصد کو میری خبر کرتے کرتے دعائیں مری کارگر ہوں گی آخر مگر چاہیے وقت اثر کرتے کرتے ذرا سوچ لینا روبینہؔ یہ دل میں طبیعت کو ...

مزید پڑھیے

آنکھیں کھلی ہیں خواب مگر دیکھ رہی ہوں

آنکھیں کھلی ہیں خواب مگر دیکھ رہی ہوں تا حد نظر غم کی ڈگر دیکھ رہی ہوں لاچار ہوں بے بس ہوں مگر دیکھ رہی ہوں لٹتے ہوئے اپنا یہ نگر دیکھ رہی ہوں اس دھوپ کی شدت میں کہاں سایہ ملے گا گرتے ہوئے میں سارے شجر دیکھ رہی ہوں وہ جن کے لہو رنگ سے یہ شہر سجا ہے گھر ان کے ہوئے زیر و زبر دیکھ ...

مزید پڑھیے

وہ جو دیکھے تھے میں نے کبھی خواب میں

وہ جو دیکھے تھے میں نے کبھی خواب میں بہہ گئے پھول سارے وہ سیلاب میں نا خدا کی جو نیت تھی ظاہر ہوئی جب بھی کشتی مری آئی گرداب میں راز اب تک کسی پہ نہ یہ کھل سکا مر گئیں مچھلیاں کیسے تالاب میں جتنے بھی زخم تھے خود بہ خود بھر گئے جب سے دیکھا ہے اک داغ مہتاب میں ایک مدت سے ہم ان سے ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی راہوں کا پتھر ہو گئے

اپنی ہی راہوں کا پتھر ہو گئے ہم بھی کیا اہل مقدر ہو گئے ہم نہیں بن پائے ہرگز آفتاب ڈوبتے تاروں کا منظر ہو گئے لوٹ پائیں گے کسی صورت نہ وہ اپنے گھر سے ہی جو بے گھر ہو گئے بک رہے تھے مصر کے بازار میں ہم مگر سستے میسر ہو گئے زندگی لے آئی یہ کس موڑ پر ہم سراسر غم کا پیکر ہو گئے

مزید پڑھیے

کہ پھر پیدا مری خاطر کوئی مشکل نہ ہو جائے

کہ پھر پیدا مری خاطر کوئی مشکل نہ ہو جائے پریشاں ہوں یہ میرا دل کہیں بزدل نہ ہو جائے بھنور میں میری کشتی کو یہی احساس رہتا ہے ڈبونے میں مرا یہ ناخدا شامل نہ ہو جائے اسی اک خوف سے میں اپنی پلکیں تک نہیں جھپکوں کہ اس کا چہرہ آنکھوں سے میری اوجھل نہ ہو جائے مجھے اس بات کی ہر لمحہ ...

مزید پڑھیے

مری زمین نہیں ہے ترے زمن کے بغیر

مری زمین نہیں ہے ترے زمن کے بغیر کہ پھول کھل نہیں سکتا کہیں چمن کے بغیر بچھڑ گئی مری خوشبو اجڑ گئے رمنے کہاں سے لاؤں میں نافہ ترے ختن کے بغیر پہن تو لی ہے انگوٹھی مگر یہ جانتا ہوں مرا عقیق ہے لا شے کسی یمن کے بغیر مرے سرن سے تری دوڑ کاش آ کے ملے کہ شام شام اداسی ہے تجھ سجن کے ...

مزید پڑھیے

ہر اک گام پر حادثہ ہم سفر ہے

ہر اک گام پر حادثہ ہم سفر ہے کٹھن کس قدر زندگی کی ڈگر ہے کٹے کیسے افسردہ تاروں کی لو میں بہت ہی بھیانک رتوں کا سفر ہے بھلا کیوں نہ الجھے وہ سانسوں سے اپنی پریشان خود سے جو کوئی بشر ہے ہیں ایسے میں ویرانیاں دل کی لازم شجر آرزؤں کا جب بے ثمر ہے ہے روبینہؔ کا تجربہ یہ برابر کہ ...

مزید پڑھیے

یوں نہ رنج و ملال کیجئے گا

یوں نہ رنج و ملال کیجئے گا یوں نہ جینا محال کیجئے گا جن کا کوئی جواب ممکن ہو ہم سے ایسے سوال کیجئے گا ہم نے ہو آپ کا برا چاہا پیش کوئی مثال کیجئے گا لوگ پڑ جائیں جس سے حیرت میں ایسا بھی کچھ کمال کیجئے گا ہم کہ سنبھلے ہیں سخت مشکل سے اب نہ پیدا وبال کیجئے گا جس سے مضبوط دل کے ...

مزید پڑھیے

وہ وفا تھی یا جفا اچھی لگی

وہ وفا تھی یا جفا اچھی لگی ہم کو تیری ہر ادا اچھی لگی ہم یہ سمجھے تھے بھلا بیٹھے ہیں وہ آپ نے جو دی صدا اچھی لگی جس میں غم بھی تھے نہاں کچھ درد بھی ہم کو وہ آب و ہوا اچھی لگی

مزید پڑھیے
صفحہ 1537 سے 6203