قومی زبان

کیسا ہے زمانے کا چلن دیکھ ذرا دیکھ

کیسا ہے زمانے کا چلن دیکھ ذرا دیکھ یاروں کے ہے ماتھے پہ شکن دیکھ ذرا دیکھ پردے کی حقیقت سے ہوئے دور مسلماں پوشاک میں بھی ننگے بدن دیکھ ذرا دیکھ اولاد کی خاطر سبھی ماں باپ یہاں پر کیا کیا نہیں کرتے ہیں جتن دیکھ ذرا دیکھ گھر بار کی فکریں اب انہیں روند رہی ہیں جو لوگ تھے سرمایۂ فن ...

مزید پڑھیے

دیار غیر سے ہو کر دیار یار جائے گا

دیار غیر سے ہو کر دیار یار جائے گا جہاں سے جب بھی کوئی صاحب کردار جائے گا نفی کی کج ادائی میں نہاں اثبات کا عالم جہاں اقرار نہ پہنچا وہاں انکار جائے گا بنا سوچے بنا سمجھے یہ اندھے ساتھ ہو لیں گے کہیں سے تو ہمارا قافلہ سالار جائے گا خودی کے پر نکل آئیں جو اس مدہوش انساں میں تو یہ ...

مزید پڑھیے

جنوں کے دشت میں نکلیں وفا کی حد کر دیں

جنوں کے دشت میں نکلیں وفا کی حد کر دیں اٹھا کے ایڑیاں اپنی دراز قد کر دیں محبتوں کے چمن پھر سے لہلہائیں گے یہ نفرتوں کے سبھی باب قید حد کر دیں تمہارے ہجر کے موسم جنہیں میسر ہوں وہ برگ و بر کی بہاروں کو مسترد کر دیں جو اہتمام بغاوت کا پیش خیمہ ہوں خلوص دل سے وہ ظلمت کے باب سد کر ...

مزید پڑھیے

زندگی کی روش بدل انجمؔ

زندگی کی روش بدل انجمؔ وقت کے ساتھ ساتھ چل انجمؔ دیکھ جو جو ہیں آستینوں میں سارے سانپوں کا سر کچل انجمؔ ٹھوکریں اور کتنی کھائے گا گرنے سے پیشتر سنبھل انجمؔ زندگی ایک ریت کی دیوار بچ کے سائے سے بھی نکل انجمؔ رونے والوں کے ساتھ رو لینا جلنے والوں کے ساتھ جل انجمؔ دل کو زنداں ...

مزید پڑھیے

جھٹکا

ایک ہی پل میں ٹوٹ کر ہو گیا چور چور وو میرے خوابوں کا تاج محل جب مجھے لگا جھٹکا

مزید پڑھیے

عورت

عورت کو سمجھو نہ جاگیر اپنی نہ یہ خواب اپنا نہ تعبیر اپنی الجھتی ہے خود سے یہ لاچار ہو کر ہر اک بات سمجھے یہ تقصیر اپنی یہ کرتی ہے ہر اک ستم کو گوارا بناتی ہے ایسے یہ تقدیر اپنی ستائے گا اس کو بتا کیا زمانہ سناں جس کی اپنی ہے شمشیر اپنی نوالے کی خاطر یہ حرمت نہ بیچے سنبھالے یہ ...

مزید پڑھیے

خواب

ٹوٹ جاتے ہیں جب تو کہاں جڑ پاتے ہیں کانچ کے کھلونوں کی طرح نازک ہوتے ہیں یہ خواب

مزید پڑھیے

لوٹ آ

دھیرے دھیرے یخ بستہ کشمیری سرد ہوائیں سفید برفیلی چٹانوں سے ٹکرا کے اپنے وجود کو گھاٹی میں مدغم کرتی شور مچاتی چوٹی پہ منقش میرے بنگلے سے لپٹ جاتیں شفاف برف پوش ہو گئی تھی راستے کی ہر لکیر ایسے میں وہ دیکھنے آیا تھا برفیلا کشمیر طویل مسافت طے کرنے کے بعد اس نے سن رکھا تھا بہت ...

مزید پڑھیے

کبھی تم دیر مت کرنا

میں روٹھوں تو منانے میں مجھے واپس بلانے میں چراغ دل جلانے میں اندھیروں کو مٹانے میں دیار دل بسانے میں کہ میرے پاس آنے میں کبھی تم دیر مت کرنا یقیں کی داستاں تم ہو کہ مثل کہکشاں تم ہو میں دل ہوں تو زباں تم ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 1536 سے 6203