ہر اک گام پر حادثہ ہم سفر ہے

ہر اک گام پر حادثہ ہم سفر ہے
کٹھن کس قدر زندگی کی ڈگر ہے


کٹے کیسے افسردہ تاروں کی لو میں
بہت ہی بھیانک رتوں کا سفر ہے


بھلا کیوں نہ الجھے وہ سانسوں سے اپنی
پریشان خود سے جو کوئی بشر ہے


ہیں ایسے میں ویرانیاں دل کی لازم
شجر آرزؤں کا جب بے ثمر ہے


ہے روبینہؔ کا تجربہ یہ برابر
کہ الجھا ہوا زندگی کا سفر ہے