قومی زبان

راستہ ہوگا جب تک نہ ہموار سا

راستہ ہوگا جب تک نہ ہموار سا ہر سفر ہوگا پھر اس پہ دشوار سا یہ خلوص و محبت کی زنجیر تھی جس نے کر ڈالا اس کو گرفتار سا اس کا چہرہ لکیروں میں بٹ سا گیا اپنی خاطر بنا ہے وہ آزار سا اس زباں سے اسے کچھ نہ کہنا مگر لفظ تحریر میں رکھنا تلوار سا کیا روبینہؔ ترے ہاتھ تھکتے نہیں لکھتے ...

مزید پڑھیے

بے رخی ہی بے رخی ہے ہر طرف

بے رخی ہی بے رخی ہے ہر طرف بکھری بکھری زندگی ہے ہر طرف دشمنی ہی دشمنی ہے ہر طرف آگ نفرت کی لگی ہے ہر طرف کس نے یہ جینا اجیرن کر دیا خوف دہشت سنسنی ہے ہر طرف کوئی شے بھی اب نہیں ہے مشرقی رنگ سب کا مغربی ہے ہر طرف بات جو دل میں ہے کہہ سکتے نہیں کیسی اپنی بے بسی ہے ہر طرف آدمی میں ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ میں اک دھاندلی مچی ہوئی ہے

دل و دماغ میں اک دھاندلی مچی ہوئی ہے کہیں سے تیز ہوا عشق کی چلی ہوئی ہے یہ میرا کمرہ تری یاد سے سجا ہوا ہے اور اس کی میز پہ چوڑی تری پڑی ہوئی ہے گلی کے موڑ سے آگے جو پانچواں گھر ہے اداسی اس کے در و بام پر لکھی ہوئی ہے وہ وارڈ روب مہکتا تھا جب تو آتا تھا اب اس کے کپڑوں میں خوشبو تری ...

مزید پڑھیے

مٹی کا چاند گرد کے ہالے میں آ گیا

مٹی کا چاند گرد کے ہالے میں آ گیا مختار کل تھا جبر کے تالے میں آ گیا بس اس کے چشم و لب کا احاطہ نہ ہو سکا ویسے بدن کا ذکر مقالے میں آ گیا مجھ سے نگاہیں پھیر لیں میرے ہی چاند نے اچھا ہوا کہ اب میں اجالے میں آ گیا اک لعل لب کا لمس بکھرنے کی دیر تھی نشہ سمٹ کے آنکھ کے پیالے میں آ ...

مزید پڑھیے

ہم ذات کے کنکر ہیں پہ ہیرے کی طرح ہیں

ہم ذات کے کنکر ہیں پہ ہیرے کی طرح ہیں ہم بجھ کے بھی منظر میں سویرے کی طرح ہیں پہنچائیں گے گھر تم کو بھٹکنے نہیں دیں گے جنگل سے گزرتے ہوئے رستے کی طرح ہیں کچھ ٹوٹی ہوئی پنسلیں پھوٹے ہوئے کاغذ ہم ہیں تو مگر بچے کے بستے کی طرح ہیں اشجار کا دیوار کا گلیوں کا ہمیں دکھ اس شہر میں ہم ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے گلاس کو اب طاقچے میں رکھ

ٹوٹے ہوئے گلاس کو اب طاقچے میں رکھ پھر اپنی پیاس جلتے ہوئے راستے میں رکھ جو عکس بن کے بیٹھا ہوا ہے اسے نکال کم فہم اپنے آپ کو اب آئنے میں رکھ یہ رات بن گئی ہے پچھل پائیوں کی رات سورج اتار اور اسے اک دیے میں رکھ اک شبھ گھڑی کہ جس میں ہو قوسین کا ملن اے زائچہ نویس مرے زائچے میں ...

مزید پڑھیے

تو مجھ کو مرے نام سے پہچان کہ میں ہوں

تو مجھ کو مرے نام سے پہچان کہ میں ہوں چھوٹا ہی سہی مجھ کو مگر مان کہ میں ہوں اک عمر اسی شہر میں گزری ہے ترے ساتھ اب کس لیے بنتا ہے تو انجان کہ میں ہوں یہ جیب بھی میری ہے یہ بازار بھی میرا کر دیتا ہوں میں اپنا ہی نقصان کہ میں ہوں ہو جائے گا اک روز یہ اعلان کہ میں تھا اب کرتا ہوں خود ...

مزید پڑھیے

تیری جمالیات سے آگے نکل گئے

تیری جمالیات سے آگے نکل گئے ہم حس و حسیات سے آگے نکل گئے اپنے کسی جزیرے پہ عیدیں منائیں گے ہم تیری چاند رات سے آگے نکل گئے لکھی ہوئی ہیں چہروں پہ ساری کثافتیں اب چہرے واقعات سے آگے نکل گئے اب ہر جگہ پہ گاتے ہیں اور ناچتے ہیں لوگ اب یہ توے پرات سے آگے نکل گئے منہ زور پانیوں کی ...

مزید پڑھیے

نہیں منزل مجھے معلوم پر چلتا رہا ہوں میں

نہیں منزل مجھے معلوم پر چلتا رہا ہوں میں سفر کے نام پر خود کو فقط چھلتا رہا ہوں میں اندھیرا جو دیا تھا وقت نے اس کو مٹانے کو لگا کر آگ اپنے آپ کو جلتا رہا ہوں میں وفا جب بن گئی ناسور پھر کیوں عشق مانگے ہے یہی کہہ کر نئے محبوب سے ٹلتا رہا ہوں میں کوئی مرہم نہیں موجود جس سے درد یہ ...

مزید پڑھیے

غموں کو ہم سفر اپنا بنانا چھوڑ دیتے ہیں

غموں کو ہم سفر اپنا بنانا چھوڑ دیتے ہیں رفاقت ہم کو ہے حاصل جتانا چھوڑ دیتے ہیں بڑی الجھن میں رہتا ہے جو ہم سے عشق کرتا ہے تو اب کی بار سے دل کو لگانا چھوڑ دیتے ہیں لکھے ہیں عشق کی دھن پر حقارت کے سبھی نغمے نہیں جائز یہ اب سچ کو چھپانا چھوڑ دیتے ہیں بنا غلطی کیے کوئی کیوں خود سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1538 سے 6203