قومی زبان

ہجر تیرا تیری قربت کا بہانہ ہو گیا

ہجر تیرا تیری قربت کا بہانہ ہو گیا یاد میں تیری ہمارا آنا جانا ہو گیا آج تجھ کو غیر کے ہم راہ خوش دیکھا تو پھر غم جو تھا تجھ سے بچھڑنے کا توانا ہو گیا عمر بھر صحرا نوردی کا ہوا انجام یہ رفتہ رفتہ دل میں وحشت کا ٹھکانہ ہو گیا سنگ باری میں تسلسل کا نتیجہ یہ ہوا تنگ آ کر دل مرا ...

مزید پڑھیے

کالا پربت

یہ کالا پربت اور زار و قطار روتا ہوا جھرنا یہ بیکل وادیاں آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے یہ پگڈنڈی کا موڑ اور تم کہتے ہو ویرانوں میں نئی روشنی آ گئی روشنی کی لو میں زندگی آ گئی لیکن پونم یہ کالا پربت مجھے کچھ دیکھنے نہیں دیتا خوفناک دھواں میری آنکھوں کو اندھا کئے دیتا ہے تمہیں کہو میں ...

مزید پڑھیے

چھوڑ دے خواب میں اب خواب کی تعبیر میں آ

چھوڑ دے خواب میں اب خواب کی تعبیر میں آ میرے محبوب سخن آ مری تحریر میں آ آ میں سمجھاؤں تجھے قاتل و مقتول میں فرق اے مرے دوست کبھی وادئ کشمیر میں آ میرا دل کہتا ہے مقتل سے نکل جانے کو اور حالات یہ کہتے ہیں زد تیر میں آ کب تلک تنہا لٹکتا رہوں دیوار پہ میں ساتھ دینے کو مرا تو میری ...

مزید پڑھیے

شناخت کا مینار

بھورے رنگ کے کتوں کی ہڑبونگ نے فضا پر وحشت طاری کر دی ہے ان کی بھوک اتنی شدید ہے کہ وہ صرف مخصوص قسم کی ہڈیوں کا گودا سونگھ سونگھ کر تلاش رہے ہیں اب تو کالے کتے بھی برسوں کی نیند سے جاگ اٹھے ہیں اور وہ بھی ان بھورے کتوں کی تلاش کے مددگار بن رہے ہیں ماحول پر وحشت کی دھند چھائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

نظم اپنوں کی تلاش

اس نے جب پہلا حملہ کیا تو میں چپ رہا کیونکہ میں محفوظ تھا اس نے جب دوسرا حملہ کیا تو میں تھوڑا سا سوچنے لگا لیکن چپ رہا کیونکہ میں محفوظ تھا پھر میری خود غرضی نے مجھے بے حس کر دیا وہ لگاتار حملہ کرتا رہا اور میں لگاتار خود کو محفوظ سمجھ کر چپ رہا نہ صرف چپ رہا بلکہ ہمیشہ اپنے ہی ...

مزید پڑھیے

بسنے لگی ہیں خواہشیں دل کے دیار میں

بسنے لگی ہیں خواہشیں دل کے دیار میں کھلنے لگے ہیں پھول مرے خار زار میں آزادی میری روح کو دلوائے گی اجل کب تک رکھے گی زندگی اپنے حصار میں میں اس کے واسطے کبھی لاکھوں میں ایک تھا لاتا نہیں ہے اب وہ کسی بھی شمار میں مجھ کو یقین تھا وہ فقط میرے ساتھ ہے کھایا ہے میں نے دھوکہ اسی ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کو یہاں خواب لکھا جاتا ہے

حقیقتوں کو یہاں خواب لکھا جاتا ہے یہاں اندھیروں کو مہتاب لکھا جاتا ہے امیر شہر کا ارشاد بنتا ہے اخبار سو تشنہ لب کو بھی سیراب لکھا جاتا ہے کسی کو ملتی ہے کشتی کسی کو پتواریں ہمارے حصے میں گرداب لکھا جاتا ہے ہماری چیخ پہ دھرتا نہیں ہے کان کوئی تمہاری اف پہ بھی اک باب لکھا جاتا ...

مزید پڑھیے

جب خزاں کے چہرے پیلے ہو گئے

جب خزاں کے چہرے پیلے ہو گئے باغ کے سب پھل رسیلے ہو گئے ذکر تیرا جب چھڑا جان سخن تلخ لہجے بھی سریلے ہو گئے جب چڑھی اس پر جوانی کی پرت زاویے اس کے کٹیلے ہو گئے تیری فرقت نے گھلا کر رکھ دیا میرے سب ملبوس ڈھیلے ہو گئے میرؔ کا دیوان گھر میں کیا رکھا بام و در اشکوں سے گیلے ہو گئے چند ...

مزید پڑھیے

راز یہ سب پر عیاں ہونا ہی تھا سو ہو گیا

راز یہ سب پر عیاں ہونا ہی تھا سو ہو گیا مجھ کو اک دن رائیگاں ہونا ہی تھا سو ہو گیا دل کو میرے تیری حسرت کے ادھورے باب کی اک مکمل داستاں ہونا ہی تھا سو ہو گیا مٹتے مٹتے وقت کے ہاتھوں مجھے بھی آخرش بے نشانی کا نشاں ہونا ہی تھا سو ہو گیا مصلحت پر منحصر تھا سو ہمارے ربط کو ایک دن تو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں مری خواب بسر ہونے لگا ہے

آنکھوں میں مری خواب بسر ہونے لگا ہے شاید ترا نیندوں سے گزر ہونے لگا ہے جز تیرے سبھی سے مجھے ہونے لگی وحشت اتنا تری چاہت کا اثر ہونے لگا ہے یوں دست مسیحائی رکھا زخموں پہ تو نے ہر زخم مرا رشک قمر ہونے لگا ہے شاید مرے کمرے میں بھی اب روشنی آئے پیدا مری دیوار میں در ہونے لگا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1530 سے 6203